معروف ڈچ وکیل کا قطر سے دہشت گردی کے متاثرین کو ہرجانہ دینے کا مطالبہ

قطر کو خط کا جواب دینے کے لیے چھے ہفتے کی مہلت ،ورنہ قانونی چارہ جوئی کروں گی،لیزبتھ زیگ ویلڈ

بدھ اپریل 12:37

ایمبسٹرڈیم(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) نیدر لینڈز سے تعلق رکھنے والی ایک معروف وکیل نے قطر سے القاعدہ سے وابستہ انتہا پسند گروپ النصرہ محاذ کی دہشت گردی کا شکار افراد کو ہرجانہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کے بہ قول اس گروپ کی قطر نے مالی معاونت کی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ڈچ وکیل لیزبتھ زیگ ویلڈ نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد کو ایک خط لکھا اور اس میں انھوں نے قطر پر الزام عاید کیا کہ وہ النصرہ محاذ کے خلاف کارروائی میں ناکام رہا تھا۔

اس لیے وہ اس جنگجو گروپ کی کارروائیوں کے متاثرین کو معاوضہ دے۔انھوں نے خط میں لکھا کہ ان متاثرین میں سے ایک شخص کو دسمبر 2012ء میں دمشق کے نواح میں واقع ایک علاقے میں النصرہ محاذ نے یرغمال بنا لیا تھا۔اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اس کو النصرہ کے جنگجو تشدد کا نشانہ بناتے رہے تھے اور اس کو دو اور یرغمالیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا منظر دیکھنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

النصرہ کے جنگجوؤں نے اس شخص کو بھی موت کی نیند سلانے کا ڈھونگ رچایا تھا۔جنگجوؤں نے اس کی رہائی کے لیے بیس لاکھ ڈالرز تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم یہ شخص شام سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا اور اس نے تب سے نیدر لینڈز میں پناہ لے رکھی ہے۔انھوں نے خط میں دھمکی دی کہ اگر قطر ایک ہرجانہ فنڈ کے قیام میں ناکام رہتا ہے تو وہ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کردیں گی۔اس کے علاوہ قطر میں مقیم ان افراد اور تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی جو دہشت گردی کی مالی معاونت میں ملوث ہیں ۔ انھوں نے قطر کو اس خط کا جواب دینے کے لیے چھے ہفتے کی مہلت دی ہے۔

متعلقہ عنوان :