تعلیمی بورڈسکھر کے زیر اہتمام گیارہوں اور بارہویں کے سالانہ امتحانات

نقل کی روک تھام کے دعوئے بے سود ثابت ،ٹیمیں بوٹی مافیا کے آگے بے بس ، مختلف سینٹرز سے پرچے آئوٹ ، امتحانی مراکز میں واٹس اپ ، گائیڈز سالڈپیپرز اور پھروں کاآزادانہ استعمال،

جمعرات اپریل 23:00

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) تعلیمی بورڈسکھر کے زیر اہتمام گیارہوں اور بارہویں کے سالانہ امتحانات ، نقل کی روک تھام کے دعوئے بے سود ثابت ،ٹیمیں بوٹی مافیا کے آگے بے بس ، مختلف سینٹرز سے پرچے آئوٹ ، امتحانی مراکز میں واٹس اپ ، گائیڈز سالڈپیپرز اور پھروں کاآزادانہ استعمال،تفصیلات کے مطابق تعلیمی بورڈ سکھر کے زیر اہتمام سکھر, خیرپور, نوشہروفیروز اور گھوٹکی اضلاع میں قائم کیے گئے ایک سو دس امتحانی مراکز میںگیارہویں اور بارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات لئے جا رہے ہیںتعلیمی بورڈ سکھر کی جانب سے نقل کی روک تھام کیلئے بلند بانگ دعوئے تو کئے جا رہے ہیں لیکن یہ عوئے بھی نقل مافیا کے سامنے دھر ے کے دھرے رہ گئے ہیں پرچہ شروع ہونے سے قبل ہی امتحانی مراکز سے باہر آگیا جسے نقل مافیا ،بوٹی مافیا نے اس طرح گھمایا کہ ایک بار پھر تعلیمی بورڈ کے انتظامات کی دھجیاں بکھرتے ہوئے اپنے امیدواروں کو نقل کرانے میں کامیاب ہو گئی امیدوار دھڑلے سے بلا خوف وخطر گائیڈوں, سالڈ پیپرز اور پھروںاور جدید ٹیکنالوجی واٹس اپ کا آزادانہ استعمال کرتے رہے تعلیمی بورڈ کی جانب سے نقل کی روک تھام کیلئے تشکیل دی جانیوالی ٹیمیں اپنی کارکردگی دیکھانے کیلئے مراکز کا غیر رسمی دورہ کرتے ہوئے نظر آئیں سکھر کے شہریوں نے امتحانی مراکز پر کھلے عام نقل کرانے والے عمل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تعلیمی بورڈ سکھر کی نااہلی قرار دیتے ہوئے بالا حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ نقل کی روک تھام کیلئے موئثر اقدام کریں ۔

#

متعلقہ عنوان :