غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شدید زخمی فلسطینی لڑکا چل بسا

15 سالہ عزام ہلال غزہ پٹی کے جنوب میں خان یونس کے نزدیک سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا تھا،وزارت صحت

اتوار اپریل 11:10

مقبوضہ غزہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) غزہ پٹی میں فلسطینی وزارت صحت نے کہاہے کہ غزہ پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحد کے نزدیک قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا فلسطینی لڑکا زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔میڈیارپورٹس کے مطابق فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ 15 سالہ عزام ہلال عویضہ غزہ پٹی کے جنوب میں خان یونس کے نزدیک سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا تھا۔

اس طرح 30 مارچ سے واپسی کی ریلی کے نام سے شروع ہونے والے عوامی احتجاج اور مظاہروں میں اب تک جاں بحق فلسطینیوں کی تعداد 45 تک پہنچ گئی ہے۔گزشتہ روز بھی غزہ پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحد کے نزدیک اسرائیلی فوج نے فائرنگ کر کے تین فلسطینیوں کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔

(جاری ہے)

جمعہ کے روز مذکورہ سرحد پر ہزاروں فلسطینیوں نے مظاہرہ کیا۔فلسطینیوں کی جانب سے واپسی کی ریلی کے نام سے شروع کیے جانے والے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ 15 مئی تک جاری رہے گا۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ پناہ گزینوں کو واپسی کا حق دیا جائے اور اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پٹی کا محاصرہ ختم کیا جائے۔اسرائیلی فوج کو مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کرنے کے سبب شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اسرائیل نے مظاہروں کے دوران جاں بحق ہونے والوں کے حوالے سے تحقیقات کرانے سے متعلق بین الاقوامی مطالبات کو مسترد کر دیا۔