نیویارک میں سکھوں کا بھارت کے خلاف احتجاجی مارچ، خالصتان کے قیام کا مطالبہ

اتوار اپریل 13:30

نیو یارک ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) امریکا میں مقیم ہزاروں سکھوں نے خالصتان کے قیام کے لیے نیو یارک شہر میں بھرپور احتجاجی مارچ کیا اور زوردار نعرے لگاتے ہوئے بھارت میں اپنے اکثریتی علاقے پنجاب کی علیحدگی اور سکھوںکے بطور قوم خود مختار علیحدہ ملک خالصتان قائم کئے جانے کا مطالبہ کیا ۔ اتوار کو امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میڈیسن سکوائر میں زرد، نارنجی اور پیلی روایتی پگڑیاں پہنے ہزاروں سکھوں نے اپنے ثقافتی رقص ، موسیقی اور آرائشی فلوٹس کے ہمراہ مارچ کیا۔

سکھ رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سکھوںکو بطور قوم تسلیم کرتے ہوئے ان کے اکثریتی علاقے پنجاب کو بھارت سے الگ کر کے خود مختار علیحدہ ملک خالصتان قائم کیا جائے ۔

(جاری ہے)

امریکا میں مقیم سکھوں کے کوآرڈینیٹر گردیو سنگھ کانگ نے کہا کہ سکھ اب علیحدہ وطن کے قیام کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور بھارتی پنجاب کی آزادی کی یہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ سکھوں کا علیحدہ ملک قائم نہیں ہو جاتا ۔

خالصتان بارے بین الاقوامی مہم چلانے والی سکھوں کی تنظیم ایس ایف جے کے لیگل ایڈوائزر گور پتوانت سنگھ نے کہا ہے کہ حق خود ارادیت کے حصول کے لیے سکھوں کی کی رائے لینے کے سلسلے میں 2020ء میں ریفرنڈم* منعقد کروائیں گے، امید ہے کہ سکھ عالمی طاقتوں کی حمایت اور تعاون سے پرامن اور جمہوری طریقے سے بھارت سے آزادی حاصل کر کے خالصتان قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔

متعلقہ عنوان :