آسٹریلیا کا معمر ترین سائنس دان خود کشی کے لیے کوشاں،

حکومتی اجازت کے منتظر عزت سے موت کو گلے لگانے کا حق ہر خواہش مند کو حاصل ہونا چاہیے،ڈیوڈ گوڈیل کی گفتگو

منگل مئی 14:45

سڈنی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) آسٹریلیا کے 104 سالہ معمر ترین سائنس داں ڈیوڈ گوڈیل کو مئی کے اوائل میں سوئٹزرلینڈ منتقل کر دیا جائے گا تا کہ وہاں وہ اپنی زندگی کے طویل سفر کو اختتام پر پہنچا دیں۔ اس بات کا اعلان سہل مرگی کا دفاع کرنے والی ایک تنظیم نے کیا۔واضح رہے کہ ڈیوڈ کسی قسم کی لا علاج بیماری میں مبتلا نہیں تاہم ان کی زندگی کی نوعیت بگڑ چکی ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ماحولیات کے سائنس دان ڈیوڈ گوڈیل نے اپنی سال گرہ کے موقع پر کہاکہ مجھے انتہائی افسوس ہے کہ میں اس عمر تک پہنچ گیا ہوں۔ میں ہر گز خوش نہیں ہوں، میں موت کو گلے لگانا چاہتا ہوں۔ یہ کوئی غم کی بات نہیں، غم کی بات یہ ہے کہ میں ایسا کرنے سے رک جائوں۔ میری عمر کے ہر شخص کو ہر معاملے میں مدد حاصل کرنے کا حق حاصل ہے جس میں خود کشی میں معاونت بھی شامل ہے۔

(جاری ہے)

دنیا کے اکثر ممالک میں خود کشی کے سلسلے میں مدد کا حصول غیر قانونی ہے۔ آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا نے گزشتہ برس موت میں مدد یا معاونت کو قانونی اس سلسلے میں مذکورہ تنظیم ایگزٹ انٹرنیشنل نے اپنی ویب سائٹ پر تحریر کیا کہ یہ انتہائی ظلم اور زیادتی کی بات ہے کہ آسٹریلیا کا ایک معمر ترین شہری عزت سے موت کو گلے لگانے کے لیے طیارے میں سوار ہو کر دنیا کی دوسری جانب سفر کرنے پر مجبور کر دیا جائے۔ عزت سے موت کو گلے لگانے کا حق ہر خواہش مند کو حاصل ہونا چاہیے۔