نارووال کو لاہور-سیالکوٹ موٹروے سے ملانے کیلئے چار رویہ رابطہ شاہراہ اور سیالکوٹ تا پسرور سڑک کو دوہرا کرنے کا سنگ بنیاد (آج رکھا جائے گا، این ایچ اے

جمعہ مئی 23:33

اسلام آباد۔4 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے دو اہم منصوبوں نارووال کو لاہور--سیالکوٹ موٹروے سے ملانے کیلئے چار رویہ رابطہ شاہراہ اور سیالکوٹ تا پسرور سڑک کو دوہرا کرنے کا سنگ بنیاد (آج رکھا جائے گا۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی طرف سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق 73کلومیٹر طویل اس چاررویہ رابطہ سڑک کی تعمیر سے لاہور اور نارووال کے مابین سفری فاصلہ سمٹ جائے گا۔

نارووال فی الوقت نیشنل ہائی وے نیٹ ورک کے ساتھ منسلک نہیں ہے جس کی وجہ سے نقل و حرکت کی سہولیات کی کمی کے باعث یہ علاقہ زیادہ ترقی نہ کر سکا۔یہ چار رویہ کیرج وے نارووال کو نارنگ منڈی اور اس کے مضافاتی علاقہ جات کو لاہور--سیالکوٹ موٹروے کے ذریعے موٹر وے نیٹ ورک سے منسلک کرے گاجس سے مسافروں کو ہائی سپیڈ سفری سہولیات میسر آئیں گی۔

(جاری ہے)

اس پراجیکٹ کی تکمیل سے علاقے میں زرعی،معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

اس پراجیکٹ سے کم و بیش 15 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔اس سڑک سے روزانہ کم و بیش11000گاڑیوں کی آمد ورفت یقینی بنے گی اور لاہورسے نارووال کا فاصلہ ایک گھنٹہ کم ہو جائے گا۔اس پراجیکٹ پر تقریباً 16ارب روپے لاگت آئے گی اور یہ اٹھارہ ماہ کی مدت میں پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ 25.6کلو میٹر طویل سیالکوٹ تا پسرور روڈ ڈسٹرکٹ سیالکوٹ میں ایک اہم رابطہ سڑک شمار کی جاتی ہے جو سیالکوٹ، پسرور اور گردو نواح کے علاقوں کو آپس میں منسلک کئے ہوئے ہے۔

پہلے سے دو لین پر مشتمل اس سڑک پر یومیہ 12000گاڑیوں کی آمدورفت کے باعث اس سڑک پر ٹریفک جام رہتی ہے جو نہ صرف حادثات کی شرح میں اضافے کا باعث ہے بلکہ اس سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس سڑک کودوہرا کرنے اوراس لنک کی بحالی سے بہتر اور محفوظ سفری سہولیات کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کے اژدھام میں بھی خاطرخواہ کمی واقع ہوگی اور مسافروں بہتر اور محفوظ سفر میسر آئے گا۔ ڈرینج سسٹم اور آبی گزرگاہوں کو بہتر بنانے سے سیلاب کے دوران پانی کھڑا ہونے جیسے مسائل سے نجات ملے گی۔ اس منصوبے سے تقریباً 20 لاکھ افراد مستفید ہوں گے ۔