فیض احمد فیض کا ایجنڈا معاشرے میں امن اور مذہبی ہم آہنگی کا فروغ تھا،منیزہ ہاشمی

ہفتہ مئی 19:19

ساہیوال۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) معاشرے میں امن اور مذہبی ہم آہنگی کا فروغ اور انسانی حقوق کا تحفظ فیض احمد فیض کا ایجنڈا تھا اور نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ فیض کا پیغام معاشرے میں پھیلانے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں تا کہ اسے صحیح معنوں میں بھائی چارے اور محبت والا بنایا جا سکے۔یہ بات فیض احمد فیض کی صاحبزادی منیزہ ہاشمی نے گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج میں نئے تعمیر ہونے والے اکیڈمک بلاک کو فیض احمد فیض سے منسوب کرنے کیلئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

پرنسپل پروفیسر اخلاق حسین‘محکمہ ہائر ایجوکیشن کے ڈپٹی سیکرٹری پروفیسر عمران کامیانہ‘پنجاب کی ثقافت کے تحفظ اور فروغ سے متعلق یونیسکو کی پراجیکٹ ڈائریکٹر ماریہ گلزار خان‘ پروفیسر شفیق بٹ‘پروفیسر اکبر شاہ‘پروفیسر افتخار شفیع اور پروفیسر حنا جمشید کے علاوہ شعبہ ارد و‘انگلش کے طلباء و طالبات اور اساتذہ بھی تقریب میں موجود تھے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے فیض احمد فیض سے متعلق اپنے بچپن کی یادیں تازہ کیں اور بتایا کہ وہ سنٹرل جیل منٹگمری میں قید کے دوران ان سے ملنے کیلئے جیل آیا کرتی تھیں ۔منیزہ ہاشمی نے کہا کہ فیض عوام کے دلوں میں آج بھی صرف اس لیے زندہ ہیں کہ انہوں نے عوام کی شاعری کی اور معاشرے میں موجود خرابیوں کی نشاندہی کر کے اسے بہتر بنانے کیلئے نوجوان نسل کو واضح پیغام دیا۔

پروفیسر حنا جمشید نے فیض احمد فیض کی سیاسی جدوجہد اور پروفیسر افتخار شفیع نے ان کی رومانوی شاعری کے حوالے سے مقالے پیش کیے جبکہ طالبہ حنا صادق نے فیض احمد فیض کی فارسی نظم سنائی ۔اپنے خطاب میں پرنسپل پروفیسر اخلاق حسین نے نئے اکیڈمک بلاک کو فیض احمد فیض سے منسوب کرنے کو انکی خدمات کو ایک ادنیٰ خراج تحسین قرار دیا اور طلباء و طالبات پر زور دیا کہ وہ فیض کی شاعری کا تفصیلی مطالعہ کریں تا کہ ان کے پیغام کو عام کیا جا سکے اور معاشرے میں امن ‘رواداری ‘مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کا جو خواب فیض احمد فیض نے دیکھا اسے شرمندہ تعبیر کیا جا سکے۔

متعلقہ عنوان :