گندم کو کیڑوں سے بچانے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

پیر مئی 14:25

فیصل آباد۔7 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) ماہرین حشرات نے کہا ہے کہ دو درجن سے زائد کیڑے گوداموں ، کوٹھیوں ، بھڑولوں میں ذخیرہ شدہ گندم کو 5سے 15فیصد تک نقصان پہنچا سکتے ہیںلہٰذا گندم کو مذکورہ کیڑوں سے بچانے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ انہوںنے کہا کہ ملک میں پیدا شدہ غلہ کو ان موذی کیڑوں کے حملہ سے بچا کر ہم اپنی خوراکی ضرورت کے علاوہ دیگر ممالک کی ضروریات کو بھی پورا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیج کو خشک اور صاف کر کے سٹور میں محفوظ کیا جائے اور سٹور کو کیڑوں سے پاک کرنے کے لئے 7 کلوگرام لکڑی فی ہزار مکعب فٹ جلا ئی جائے ۔ انہوںنے کہا کہ سٹور کو 48 گھنٹے تک بند ر کھا جائے یا پھر سٹور میں محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے سفارش کردہ زہرکا سپرے کیا جائے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ گندم ذخیرہ کرنے والے افراد پرانی بوریوں کو پانی میں اسی نسبت سے زہر ملا کر اس میں ڈبوئیں اور خشک کر لیں۔

انہوںنے کہا کہ مزید احتیاط کیلئے سٹور میں زہریلی گیس والی گولیاں بحساب 40 تا 50 فی ہزار مکعب فٹ استعمال کی جا سکتی ہیں۔انہوںنے بتایا کہ غلہ کو نقصان پہنچانے والے کیڑے عموماً گوداموں میں پڑی ہوئی استعمال شدہ بوریوں میں موجود ہوتے ہیں اس لئے جب غلہ بھرنے کیلئے ان بوریوں کو دوبارہ استعمال میں لایا جاتا ہے تو یہ کیڑے غلہ میں مل جاتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :