فلو ر ملز ایسوسی ایشن،ملک بھر سے فلور ملزمالکان کا ہنگامی اجلاس (کل )لاہور میں طلب

حکومت بند پڑی انڈسٹری کی بحالی کیلئے فوری طور پر فلور ملز مالکان کو ریفنڈز کی رقم ادا کرے‘حکومت نے شوگر انڈسٹری سمیت دیگر شعبوں کوریفنڈز ادا کر دیئے فلور ملنگ انڈسٹری یکسر نظر انداز‘عاصم رضا،میاں ریاض ،افتخار مٹو

پیر مئی 19:01

فلو ر ملز ایسوسی ایشن،ملک بھر سے فلور ملزمالکان کا ہنگامی اجلاس (کل ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنما عاصم رضا اورسابق چیئرمین میاں ریاض ، سابق چیئرمین چوہدری افتخار احمد مٹو نے کہا ہے کہ گندم ایکسپورٹ کی مد میں پچھلے 3 سالوں سے برآمد کنندگان کے ریفنڈز رکھے ہوئے ہیں،حکومت بند پڑی فلور ملز کی بحالی کیلئے فوری طور پر فلور ملز مالکان کو ریفنڈز کی رقم ادا کرے ،حکومت نے 159 ڈالر ریبیٹ پر 20 لاکھ ٹن گندم کی ایکسپورٹ میں فلور ملنگ انڈسٹری کیلئے کچھ نہیں رکھا ۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کی ناقص معاشی و اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے آج فلور ملنگ انڈسٹری بحران سے دوچار ہے ،حکومت نے شوگر انڈسٹری سمیت دیگر شعبوں کو ریفنڈز ادا کر دیئے ہیں جبکہ فلور ملنگ انڈسٹری کو یکسر نظر انداز کیا جار ہا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر فلور ملز مالکان کے گندم ایکسپورٹ کی مد میں رکے ہوئے ریفنڈز ادا کرے اور آئندہ ہونے والی گندم ایکسپورٹ میں فلور ملز مالکان کو گندم کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ گندم کے ساتھ ساتھ مقامی انڈسٹری کے ذریعے آٹے کی ویلیو ایڈیشن کر کے سمندر اور خشکی کے راستے گندم کی مصنوعات ایکسپورٹ کی جا سکیں تاکہ مقامی انڈسٹری چلنے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقعے فراہم کئے جا سکیں اگر حکومت نے فلور ملز مالکان کو فوری طور پر ریفنڈز کی رقم ادا نہ کی تو ہم چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کو سوموٹو ایکشن لینے کیلئے درخواست دینے پر مجبور ہونگے ۔

حکومت ہمیں دیگر عوام کی طرح ملوں کو تالے لگا کر سٹرکو ں پر آنے کیلئے مجبور نہ کرے۔آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے فلو ر ملز ایسوسی ایشن نے بدھ کے روز پورے پاکستان سے فلور ملزمالکان کا ہنگامی اجلاس بھی لاہور میں طلب کر لیا ہے ۔