پشاور میں جاری انڈر 23گیمز میں کرکٹ کے علاوہ تمام مقابلے اختتام پذیر

پشاور نے اپنی سابقہ روایات برقرار رکھتے ہوئے مجموعی طور پر صوبائی چمپئن ہونے کااعزاز اپنے سر سجالیا

منگل مئی 15:20

ایبٹ آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) پشاور میں جاری انڈر 23گیمز میں سوائے کرکٹ کے تمام مقابلے اختتام پذیر ہو گئے جن میں پشاور نے اپنی سابقہ روایات برقرار رکھتے ہوئے مجموعی طور پر صوبائی چمپئن ہونے کااعزاز اپنے سر سجایا پشاور نے خواتین کے مقابلوں میں مجموعی طور پر 9کھیلوں میں پہلی اور دو میں دوسری پوزیشن حاصل کی مردان کی ٹیم نے مجموعی طور پر تین کھیلوں میں اول اور 10کھیلوں میں دوسری پوزیشن اپنے نام کی جبکہ ہزارہ نے تین کھیلوں میں اول اورایک میں دوئم پوزیشن کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر تیسری پوزیشن پر قبضہ جمایا سوات نے ایک میں اول اور ایک میں میں دوسری ،کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان نے ایک ایک کھیل میں دوسری پوزیشن حاصل کی اور بنوں کی کوئی بھی خواتین ٹیم کوئی بھی کامیابی نہ سمیٹ پائی صوبائی سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کے زیر اہتمام کھیلے جانیوالے یہ مقابلے عبد الولی خان چارسدہ سپورٹس کمپلکس ،ایلمنٹری کالج تخت بائی، پشاور یونیورسٹی اور پشاور بورڈ میں منعقد ہوئے ان تین روز تک جاری رہنے والے مقابلوں میں رسہ کشی ایونٹ کے فائنل میں ہزارہ نے پشاور کو شکست دی سکوائش میں پشاور نے مردان کو فائنل میں زیر کیا ،نیٹ بال میں میدان سوات کے ہاتھ رہا جبکہ مردان دوسرے نمبر پر رہا جوڈو کے فائنل میں مردان نے کوہاٹ کو ، بیڈ منٹن کے فائنل میں مردان نے پشاور کو ، رائونڈر میں مردان نے ہزارہ کو شکست دے کر ان کھیلوں میں اول پوزیشن حاصل کی ، تائیکوانڈواور ووشو میں ہزارہ نے پہلی اور ڈیرہ اسماعیل خان اور مردان نے بالترتیب دوسری پوزیشن لی ،اسی طرح دیگر کھیلوں ہینڈ بال ، ہاکی ، اتھلیٹکس ، ٹیبل ٹینس ، والی بال اور لان ٹینس میں پشاور نے اول اور مردان نے دوئم پوزیشن کا تاج اپنے سرسجایا ،بیس بال کے فائنل میں پشاور نے سوات کو شکست دی خواتین کے ان مقابلوںکے اختتام پر ڈپٹی کمشنر چارسدہ ، ڈپٹی کمشنر ہری پور فیاض علی شاہ ، ڈائریکٹریس سپورٹس کے پی کے رشیدہ غزنوی اور ڈائریکٹر سپورٹس ڈویلپمنٹ سلیم رضا نے خواتین کھلاڑیوں میں ٹرافیاں میڈلز اور نقد انعامات تقسیم کیے اول آنے والی ٹیموں کو 50ہزار اور دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں کو 30ہزار روپے کے نقد انعامات کھلاڑیوں میں موقع پر تقسیم کئے گئے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہزارہ جس نے گزشتہ سال ان مقابلوں میں پشاور کے بعد نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اس دفعہ وہ اپنی کارکردگی کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں مکمل ناکام رہے اور ذرائع کے مطابق اس کی بنیادی وجہ ہزارہ کے ڈی ایس اوز کی آپس کی باہمی چپقلش کا قرار دیا گیا ہے