امریکی صدر نے ایران سے کیے گئے جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کردیا

امریکی صدر نے ایران کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنےکااعلان بھی کر ڈالا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس منگل مئی 23:49

امریکی صدر نے ایران سے کیے گئے جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کردیا
واشنگٹن (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار- 08مئی 2018ء ) امریکی صدر نے ایران سے جوہری معاہدے علیحدگی کا اعلان کردیا۔ امریکی صدر نے ایران کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنےکااعلان بھی کر ڈالا۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر نے ایران سے جوہری معاہدے علیحدگی کا اعلان کردیا۔ وائٹ ہاوس سے جاری اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران شام ،،،یمن میں کارروائیاں کر رہا ہے۔

ایران ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی کرتاہے۔۔ایران ایک دہشتگرد ملک ہے،،دنیا بھرمیں دہشتگردی میں ملوث ہے۔۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کےحصول سےروکناہوگا جبکہ حقیقت میں ڈیل کے تحت ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت مل گئی۔۔ایران نیوکلیئر ڈیل یک طرفہ تھی ۔اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ہمارے پاس ثبوت ہے کہ ایران کا وعدہ جھوٹاتھا۔

(جاری ہے)

معاہدے کو جاری رکھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی۔جیسےہی ایران ایٹمی ہتھیاربنانےمیں کامیاب ہوگیادیگرممالک بھی کوششیں تیزکردینگے۔معاہدہ یکطرفہ تھا، ایران سے نیوکلیئر معاہدہ نہیں ہوناچاہیے تھا۔ڈیل کے بعد ایران نےبجٹ میں 40فیصد اضافہ کیا۔اس موقع پر امریکی صدر نے ایران سے جوہری معاہدے علیحدگی کا اعلان کردیا۔انکا کہنا تھا کہ ایران سے ایٹمی تعاون کرنیوالی ریاست پر بھی پابندیاں لگائیں گے۔

ایران نیوکلیئرخطرے سے نمٹنے کیلیے اتحادیوں کے ساتھ کام کریں گے۔امریکا ایرانی عوام کےساتھ ہے۔انکا کہنا تھاامریکا ایران پر سخت ترین معاشی پابندیاں لگائے گا۔۔ایران پرمعاشی پابندیوں سےدنیاکوبھی ایک پیغام جائےگا۔اس پر رد عمل دیتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کا اعلان عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔۔ایران نے ایٹمی معاہدے پر عمل کیا جبکہ امریکا کبھی جوہری معاہدے سے مخلص ہی نہیں تھا۔

امریکا نے ہمیشہ ایٹمی معاہدے سے متعلق جھوٹ بولا۔امریکانےبغیر کسی ثبوت کے ہمیشہ ایران کی مخالفت کی۔یاد رہے کہ ایران اورعالمی طاقتوں کےدرمیان جوہری معاہدہ جولائی 2015 میں ہواتھا۔معاہدےمیں ایران کےساتھ امریکا،،برطانیہ فرانس،،،چین،، روس اور جرمنی شامل تھے۔معاہدےکےتحت ایران نےاپنی جوہری صلاحیت کومحدود کرنےپررضامندی ظاہرکی تھی جبکہ ایران نےبین الاقوامی ٹیم کواپنی جوہری تنصیبات کامعائنہ کرنےکی اجازت بھی دی تھی جس کے نتیجے میں معاہدےکےتحت امریکااور یورپی ممالک نےایران پرمعاشی پابندیاں نرم کردی تھیں۔