پلاسٹک کے برتنوں میں مائیکروویو اون میں گرم کیا گیا کھا نا تولیدی صحت میں خرابی ، ذیا بیطس ، موٹاپے اور سرطان کا باعث بن سکتاہے

بدھ مئی 15:58

پلاسٹک کے برتنوں میں مائیکروویو اون میں گرم کیا گیا کھا نا تولیدی صحت ..
فلوریڈا ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) ماہرین نے کہا ہے کہ پلاسٹک کے برتنوں میں مائیکروویو اون میں گرم کر کے کھا نا کھانے والی مائوں کے بچوں میں پیدائش سے قبل ہی بچے کی تولیدی صحت میں خرابی ، ذیا بیطس ، موٹاپے اور سرطان کا امکان ہوتا ہے ۔ سائنس دانوں اور ماہرین نے اخذ کیاہے کہ پلاسٹک کے برتنوں میں مائیکروویو میں گرم کیا گیا کھا ناانسانوں میں بلند فشار خون ، دما غ کو نقصان پہنچانے کے علاوہ تولیدی صحت کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتاہے امریکن سوسائٹی آف ری پروڈکٹو ہیلتھ نے آئی وی ایف کی ماہر ڈاکٹر نتاشا گپتا کے حوالہ ے رپورٹ میں بتایا ہے کہ پلاسٹک کے برتن گرم ہونے پر اس میں موجود تمام کیمیکلز میں سے 95 فی صد کیمیکلز کا اخراج ہوتا ہے جن میں سے سب سے خطرناک ترین کیمیکل اسفینول اے ہے جس کو حرف عام میں بی پی اے کہا جاتا ہے جو اوون میں گرم شدہ کھانے کے ساتھ ہی خون کے مرکزی دھارے میں شامل ہو جاتا ہے اور اس طرح یہ کیمیکل ، بانجھ پن ، ہارمونز میں تبدیلیوں ، مردانہ اوصاف میں تبدیلی اور مختلف اقسام کے سرطانوں کا باعث بن سکتاہے ۔

(جاری ہے)

ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک میں سرطان کا باعث بننے والے دیگر کیمکلز میں پی وی سی ، ڈائی اوکسین اور سٹائرین شامل ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ شیشے کے برتن پلاسٹ کے برتنوں سے مختلف ہوتے ہیں اور ان میں کھانا گرم کرنے کی صورت میں کیمیکلز کا اخراج اس طرح نہیں ہوتا جس طرح کہ پلاسٹک کے برتنوں سے ہوتا ہے ۔

متعلقہ عنوان :