یونان میں بندر نے بادشاہ کو ہلاک کر کے ملک کا پورا مستقبل بدل ڈالا

7میں انقلاب لانے کے دعویدار الیگزینڈر اول پر باغ میں بندرنے حملہ کیا،23دن بعدانتقال ہوگیا،رپورٹ

ہفتہ مئی 11:50

یونان میں بندر نے بادشاہ کو ہلاک کر کے ملک کا پورا مستقبل بدل ڈالا
تیونس سٹی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) یونان میں ایک بندر نے بادشاہ کو ہلاک کر کے ملکی منظر نامے کو بدل دیا۔ اس طرح مذکورہ بندر یونان کی تاریخ پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والا جانور بن گیا۔عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سال 1917ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ اور فرانس نے یونان کے بادشاہ قسطنطین اوّل کو جرمنی کی حمایت کرنے کے سبب مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔

اس کے نتیجے میں بادشاہ اپنے بیٹے الگزینڈر اوّل کے حق میں دست بردار ہو گیا۔بدقسمتی سے بادشاہ الیگزینڈر اول وسیع تر یونان کا خواب حقیقت میں تبدیل ہوتا نہیں دیکھ سکا۔ اکتوبر 1920ء میں وہ ایک الم ناک حادثے حادثے سے دوچار ہوا اور پھر 4 ہفتوں کے اندر دنیا سے رخصت ہو گیا۔دو اکتوبر 1920ء کو بادشاہ محل کے باغ میں اپنے پسندیدہ کتّے کے ساتھ معمول کی سیر کر رہا تھا۔

(جاری ہے)

اس دوران کتے نے وہاں موجود ایک بندریا پر حملہ کر دیا اور دونوں میں لڑائی شروع ہو گئی۔ الیگزینڈر نے اپنے کتّے کو پیچھے کھینچنے کی کوشش کی تا کہ اس لڑائی کو ختم کیا جا سکے۔ تاہم ایک دوسرے بندر کے لڑائی میں شامل ہو جانے کے بعد وہ ہو گیا جس کا سوچا بھی نہیں گیا تھا۔ مذکورہ دوسرے بندر نے جب دیکھا کہ الیگزینڈر لڑائی کی جگہ کی جانب بڑھ رہا ہے تو اس نے چھلانگ لگا کر بادشاہ پر حملہ کر دیا۔ اس کے بعد بندر نے الیگزینڈر کے جسم کے مختلف مقامات پر کاٹ لیا جس میں بادشاہ کی گردن اور ٹانگ خاص طور پر متاثر ہوئی۔ اس موقع پر موجود لوگ بادشاہ کو بچانے کے لیے مداخلت پر مجبور ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں الیگزینڈر اول 25 اکتوبر 1920ء کو 27 برس کی عمر میں فوت ہو گیا۔