مختلف محکموں کے 17 بدعنوانی کے کیسز پیش کئے گئے، 4کیسز کیخلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی‘ کمشنر سکھر

بدھ مئی 23:20

سکھر۔ 16مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) چیئرمین اینٹی کرپشن کمیٹیII- /کمشنر سکھر ڈویژن ڈاکٹر محمد عثمان چاچڑ کی زیر صدارت انکے آفس کے کمیٹی روم میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس کے دوران مختلف محکموں کے 17 بدعنوانی کے کیسز کمیٹی کے سامنے پیش کئے گئے جن میں 4کیسز کی ایف آئی آر درج، 12کیسز میں محکمہ جاتی کارروائی کا فیصلہ اور ایک کیس کو عدم ثبوت کے باعث بند کر دیا گیا۔

چیئرمین اینٹی کرپشن کمیٹیII- /کمشنر سکھر ڈویژن نے اجلاس میں اینٹی کرپشن کے انویسٹیگیشن افسران کو ہدایت کی کہ جانچ کے دوران کیسز کو کمیٹی کے سامنے صحیح طریقے اور فیکٹ فائنڈنگ کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو اور بدعنوان عملدار آسانی سے خود کو کیس سے بچا نہ سکیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے ہدایت کرتے ہوئے مزید کہا کہ متعلقہ عملدار محکمہ جاتی انکوائری وقت پر کریں تا کہ انصاف کا عمل متاثر نہ ہو ۔

کمشنر سکھر ڈویژن نے کہا کہ اینٹی کرپشن کی قانونی کارروئی کو بہتر کرنے کے ساتھ کیسز کو حل کرنے میں سست رفتاری کا عمل ترک کیا جائے۔ کمشنر سکھر نے کہا کہ سرکل افسران انویسٹیگیشن افسران کو ٹریننگ دی جائے تا کہ وہ بہتر انداز میں کیسز کی پروسیڈنگ کر سکیں ۔ کمشنر سکھر نے مزید کہا کہ تمام جعلی دستاویزات کی متعلقہ محکموں سے تصدیق کرائی جائے اور تما م معاملے کی انکوائری کو ملوث افراد کے خلاف کرنے کے عمل کو یقینی بنایا جائے ۔

انہوں نے اینٹی کرپشن افسران اور انکوائری افسران کو ہدایت کی کہ وہ ایک میکینیزم کے تحت کام کرتے ہوئے انویسٹیگیشن کے عمل کو شفاف بنائیں تا کہ کوئی بھی کرپٹ عملدار یا ماتحت عملہ قانون کی گرفت سے بچ نہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹی درخواستیں اور شکایات کرنے والوں کے خلاف کارروئی کی جائے تاکہ بلیک میلنگ کے رجحان کو ختم کیا جا سکے ۔

متعلقہ عنوان :