مولانا اعظم طارق قتل کیس میں ملزم کی بریت کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

جمعہ مئی 18:24

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) وفاقی حکومت نے مولانا اعظم طارق قتل میں انسدادہشت گردی عدالت کے بریت کے حوالے سے فیصلے کوچیلنج کردیا گیا ہے وفاق کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سبطین کاظمی 16اکتوبر 2003 کو تھانہ گولڑہ میں درج کی گئی ایف آئی آر میں نامزد ملزم ہے جس کے بعد ملزم عدالتی کارروائی شروع ہونے پر معزور ہوگیا اور اشتیاری قرار دیا گیا بعدازاں ملزم کو 14سال بعد 11مئی2017کو گرفتار کیا گیا وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ دہشت گردی عدالت کے بریت کے حوالے سے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے واضح رہے انسدادہشت گردی عدالت سے بریت کے فیصلے کے بعد سبطین کاظمی نے آن لائن کے سوال پر کہاجے آئی ٹی جھوٹی ثابت ہوئی ہے ان کا کہنا تھا ہمارا مطالبہ ہے کہ ایسا قانون بنایا جائے جھوٹے مقدمات درج کرنے اور کروانے والون کو سزا دینی چاہیے

متعلقہ عنوان :