واٹرسپلائی ڈگری میں پبلک ہیلتھ کے تعاون سے بننے والے نئے تالاب اسکیم تھری میں ناقص مٹیریل کا استعمال

اطلاع کے باوجود ایس ڈی او پبلک ہیلتھ سہیل میمن نے آنکھیں بند کر کے ٹھیکیدار کو کرپشن کرنے کے لیئے کھلی چھوٹ دے دی

اتوار مئی 19:00

ڈگری (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) واٹرسپلائی ڈگری میں پبلک ہیلتھ کے تعاون سے بننے والے نئے تالاب اسکیم تھری میں ناقص مٹیریل کا استعمال۔ اطلاع کے باوجود ایس ڈی او پبلک ہیلتھ سہیل میمن نے آنکھیں بند کر کے ٹھیکیدار کو کرپشن کرنے کے لیئے کھلی چھوٹ دے دی جبکہ واٹرسپلائی اسکیم نمبر دو بھی پہلے کرپشن کی بھینٹ چڑھ چکی ہے جو کہ پبلک پارک ڈگری میں تقریباّ دس سال تقریباّ 85 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی ٹنکی پانی بھرنے سے پہلے ہی ناکارہ ہو گئی جس کا آج تک متعلقہ ادارے نے کوء نوٹس نہیں لیا ۔

ٹھیک اسی طرح اب بھی تقریبا75 لاھ روپے کی لاگت سے واٹرسپلائی اسکیم نمبر تین پر بھی ناقص مٹیریل کا استعمال جاری ہے جس میں دو نمبر اینٹیں لگاء جارہی ہیں اور سیمنٹ کا استمال نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ تالاب کی جگہ کھدائی کے دوران نکلنے والے پائپ جو کہ 40 سال قبل واٹرسپلائی کے پرانے تالابوں میں استمال کے لئے لگائے گئے تھے وہ دوبارہ سے نئے تالاب میں لگائے جارہے ہیں ۔

(جاری ہے)

اس سلسلے میں تفصیلات بتاتے ہوئے واٹر سپلائی کے انچارج میر الطاف تالپور نے بتایاکہ ان تمام باتوں سے ایس ڈی او پبلک ہیلتھ سہیل میمن کو آگاہ کیا تو موصوف نے نوٹس لینے کی بجائے کہا کہ ہماری مرضی جیسا کام کریں واضع رہے کہ پرانے تالابوں کی صفائی میں بھی بڑے پیمانے پر کرپشن کی گئی ہے۔ شہریوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈگری میں پینے کے پانی کے لئے جاری تالاب کی تعمیر میں ناقص مٹریل کے استمال کا نوٹس لیں اور ٹھیکیدار سمیت ایس ڈی او پبلک ہیلتھ کے خلاف انکوائری کر کے کاروائی کی جائے۔

متعلقہ عنوان :