انوشہ رحمان آئی۔ٹی سوفٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ میں اصلاحات لانے میں ناکام

بورڈ میں ایک کی بجائی6من پسند دوستوں کو ڈائریکٹر تعینات کردیاگیا کمرشل اتاشیوں سے نہ رابطہ اور نہ ہی آئی ٹی شعبہ میں سرمایہ کاری لائی گئی،سب کمپنی کی سفارش نظرانداز

اتوار مئی 19:20

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی ہدایات کے باوجود وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے پاکستان سوفٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ میں اصلاحات نافذ نہیں کی جاسکیں بلکہ بورڈ میں نااہل اور نالائق لوگوں کو بھرتی کرکے ادارہ کا ستیاناس کردیاگیا ہے۔ایم این اے فرحانہ قمر کی سربراہی میں سب کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ سوفٹ بورڈ میں ایک ڈائریکٹر تعینات کا جائے جبکہ5 دیگر ڈائریکٹرز کی آسامیاں ختم کردی جائیں۔

انوشہ رحمان نے ابھی تک اس سفارش پر عمل نہیں کیا بلکہ اپنے ذاتی دوستوں اور من پسند لوگوں کو بھرتی کررکھا ہے۔قائمہ کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ بورڈ میں خالی آسامیوں پر بھرتی کے وقت رولز اور ریگولیشن پر عمل کیا جائے لیکن انوشہ رحمان نے آسامیوں کو بھرتی کرتے وقت قواعد کی بے رحمانہ طریقہ سے خلاف ورزی کی ہے۔

(جاری ہے)

کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ وہ بورڈ کے اندر جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرے تاکہ قومی خزانہ کو فوائد حاصل ہو سکیں لیکن انوشہ رحمان نے جاری منصوبوں کو مکمل کرنے میں کوئی دلچسپی ہی نہیں لی کیونکہ وہ کیپٹن صفدر اور مریم نواز کی ذاتی خدمات ادا کرنے میں مصروف رہتی ہیں اور ان ذاتی خدمات کے عوض ملک کی اہم وزارت حاصل کر رکھی ہے۔

کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے اس شعبہ میں اختلافات لائیں لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود اس شعبہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے مترادف ہے اور نہ غیر ملکی سفارتخانوں میں تعینات کمرشل آتاشیوں سے رابطہ کرکے غیر ملکی آئی ٹی کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا ہے۔کمیٹی نے سوفٹ ویئر بورڈ کو ہدایت کی تھی کہ آئی ٹی مصنوعات پر عائد جی ایس ٹی کی رپورٹ دی جائے لیکن یہ رپورٹ سال گزرنے کے باوجود بھی تیار نہیں ہوسکی اور نہ ہی آئرلینڈ آسٹریلیا کو آئی ٹی ایکسپورٹ ممالک کی لسٹ میں شامل کیا گیا ہی۔