تامل ناڈو میں مظاہرین پر پولیس کی براہ راست فائرنگ سے 11 افراد ہلاک

ہزاروں مظاہرین تا بنے کی فیکٹری سے خارج آلودگی کے خلاف سراپااحتجاج تھے،ریاستی حکومت کا پولیس کا دفاع

بدھ مئی 17:41

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) جنوبی بھارت میں واقع تا بنے کی ایک فیکٹری سے خارج ہونے والی آلودگی کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے دھاوا بول دیا جس سی11 مظاہرین ہلاک ہو گئے۔۔بھارتی ٹی وی کے مطابق ہزاروں مظاہرین نے تانبا پگھلانے کے پلانٹ سٹرلائٹ کاپر کے خلاف جلوس نکالا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ فیکٹری کی وجہ سے زیر زمین پانی آلودہ ہو گیا ہے۔

(جاری ہے)

ٹوٹیکورین کے قصبے میں پولیس نے مظاہرین کو، جن کی تعداد تقریباً دس ہزار تھی، سرکاری دفاتر کی طرف بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی تو ہجوم نے مشتعل ہو کر پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اس دوران کئی مظاہرین نے کئی کاروں کو الٹ کر انہیں آگ لگا دی۔تامل ناڈو کے ایک اعلیٰ عہدے دار پالانی سوامی نے کہا کہ پولیس لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے یہ اقدام کرنا پڑا جس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔دوسری جانب سٹرلائٹ کاپر کمپنی نے حکومت سے درخواست کی کہ اسے اپنے پلانٹ میں توسیع کی اجازت دی جائے۔ تامل ناڈو کی حکومت نے پولیس کی کارروائی کو حق بجا نب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس مشتعل ہجوم کا راستہ نہ روکتی تو صورت حال زیادہ سنگین ہو سکتی تھی۔