برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 نے بھرتیوں کیلئے پہلی مرتبہ اشتہاری مہم شروع کردی

اشتہار میں یہ پیغام دیا گیا کہ نئی بھرتیوں کے لیے خفیہ سروس کو مختلف قسم کی صلاحیتیں درکار ہیں، جو ایم آئی 6 کے سال 2021 تک 800 افراد کو بھرتی کرنے کے پروگرام کا حصہ ہے

جمعہ مئی 16:56

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 نے بھرتیوں کے لیے پہلی مرتبہ ٹیلی ویژن پر اشتہاری مہم کا آغاز کردیا۔ایجنسی میں خاص طور مختلف افراد کی بھرتیوں کے لیے بنائے گئے اشتہار میں خفیہ ایجنسی کے حوالے سے قائم ہونے والے مشہور زمانہ کردار جیمز بونڈ کے طلسم کو رد کیا گیا ہے۔اشتہار میں پانی کے بہت بڑے ایکیوریم میں تیرتی شارک دکھائی گئیں ہیں جنہیں جمیز بانڈ سیریز کی فلموں میں منفی تاثر کے تحت دکھایا جاتا ہے۔

جب کہ پس منظر میں گونجتی آوز میں کہا جارہا ہے ہم انٹیلی جنس آفیسرز ہیں، لیکن ہم وہ نہیں کرتے جو آپ سوچتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ دشمنوں کے درمیان اپنے آپ کو اچھا ثابت کرنا ہے بلکہ خاموشی سے ایسے کام کرنے ہیں جن کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

جس کے بعد کیمرہ ایک بچے کو دکھاتا ہے جو خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹتا ہے تو اس کی ماں اسے اٹھا کر تحفظ کا احساس دلاتی ہے۔

اس موقع پر پس پردہ آواز کو سنا جاسکتا ہے کہ دوسروں کو سمجھنا اور چیزوں کو مختلف انداز سے دیکھنے میں ان کی مدد کرنا، اپنی ذات سے ماورا دنیا تلاش کرنا، اگر آپ کو یہ سب سنا سنا سا لگتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب آپ کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہے، اصل میں ہم آپ جیسے ہی ہیں۔اشتہار میں یہ پیغام دیا گیا کہ نئی بھرتیوں کے لیے خفیہ سروس کو مختلف قسم کی صلاحیتیں درکار ہیں، جو ایم آئی 6 کے سال 2021 تک 800 افراد کو بھرتی کرنے کے پروگرام کا حصہ ہے۔

اس ضمن میں کچھ ماہ قبل برطانیہ میں مقیم سابق روسی ایجنٹ سرگی اسکرپال اور ان کی بیٹی یولیا اسکرپال پر اعصاب شل کردینے والے زہر کے حملے کے بعد سے خفیہ ایجنسی سروس میں بھرتی کے خواہشمند افراد کی درخواستوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔تاہم اس حوالے سے مارچ 2016 کے سرکاری اعداد و شمار کی رو سے سینئر عملے میں محض 24 فیصد خواتین جبکہ ماتحت عملے میں 38 فیصد خواتین ہیں، اس کے علاوہ سینئر عملے میں ایشیائی، سیاہ فام یا کسی اقلیت گروہ سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد موجود نہیں جبکہ ماتحت عملے میں بھی ان کی تعداد صرف 38 فیصد ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

متعلقہ عنوان :