جامع ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس ختم

امریکہ علاوہ معاہدے کے تمام رکن ممالک نے شرکت کی،ایران کا ایٹمی معاہدے کی پابندی کرنے کی یقین دہانی تمام ارکان معاہدے کو باقی رکھنے پر متفق،سیاسی عزم کی ضرورت ہے،روسی مندوب

ہفتہ مئی 15:34

ویانا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) جامع ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس ویانا میں ختم ہوگیا ہے،جامع ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں امریکہ کے سوا معاہدے کے تمام رکن ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی،کمیشن کے اجلاس میں جامع ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا،اجلاس میں 5ممالک برطانیہ،،،فرانس،،،جرمنی،،،چین،،،روس اور یورپی یونین کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ایران کے سینیئر ایٹمی مذاکرات سید عباس عراقچی نے مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں ایران کی نمائندگی کی۔مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا آمانو بھی شریک تھے اور انہوں نے ایک بار پھر ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی پابندی کیے جانے کا تصدیق کی۔

(جاری ہے)

گزشتہ روز جامع ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں شریک روس کے نمائندے میخائل اولیانوف نے اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تمام ارکان ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے پر متفق ہیں اور اس کیلئے سیاسی عزم کی ضرورت ہے،مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں ایران کیخلاف پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے نتائج کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا،اجلاس میں ایٹمی معاہدے کو جاری رکھنے کیلئے یورپ کی جانب سے ایران کو فراہم کی جانے والی ضمانتوں کے معاملے کا گہرا جائزہ لیا گیا اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔