مراکش میں کم عمر بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والا امام گرفتار،سخت سزاکا مطالبہ

45سالہ مذکورہ امام شادی شدہ،دوبچوں کا باپ،مسجد کی صفائی کے لیے بلاکر جنسی زیادتی کا نشانہ بناتاتھا،رپورٹ

بدھ مئی 16:15

رباط(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) مراکش میں ایک مسجد کے امام کے ہاتھوں کم عمر بچیوں کے جنسی ہراسیت کا نشانہ بننے کے انکشاف نے عوامی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ اندوہ ناک واقعہ وسطی شہر مراکش کے ایک نواحی گاؤں کا ہے جہاں 45 سالہ مذکورہ امام نے اپنے پاس قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والی کم عمر بچیوں سے زیادتی کا اعتراف کیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس امام کی درندگی کا شکار ہونے والی ایک 17 سالہ لڑکی نے سکیورٹی فورسز کے سامنے اعتراف کیا کہ گاؤں کی مسجد میں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی جب کہ اس کی عمر اس وقت صرف 10 برس تھی۔ اس انکشاف نے نمازیوں کے اندر غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ اعتراف کرنے والی لڑکی کے والد کی شکایت پر سکیورٹی فورسز نے ملزم کو حراست میں لے کر استغاثہ کی تحقیقات کا دروازہ کھول دیا۔

(جاری ہے)

گاؤں کی مسجد کے امام کے ساتھ تحقیقات جاری ہیں جس پر 7 سے 12 برس کی 7 بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔مقامی میڈیا میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق یہ امام کئی برسوں سے کم عمر بچیوں کے جنسی استحصال کا عادی ہے۔ وہ ہر سبق کے اختتام پر بچیوں کو مسجد کی صفائی کا بولا کرتا تھا جب کہ جس بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانا ہوتا اسے اپنے کمرے کی صفائی کا حکم دیتا تھا۔مسجد کا امام شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ بھی ہے۔

متعلقہ عنوان :