ختم نبوت ﷺ کے معاملے پر قدآور شخصیات شامل تھیں

معروف صحافی نے ختم نبوت ﷺ سے متعلق اہم انکشاف کر دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ جون 10:48

ختم نبوت ﷺ کے معاملے پر قدآور شخصیات شامل تھیں
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ یکم جون 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی ندیم ملک نے کہا کہ حکومت کی نالائقی کی حد ہے کہ جب 203شق ڈالی گئی تو ان کو علم ہی نہیں تھا کہ یہ شق ہے کیا اور جب ترمیم کا بل پاس ہو گیا تو یہ ہڑا بڑا کر باہر سڑکوں پر نکل آئے۔ ندیم ملک نے کہا کہ ختم نبوت پر جو لوگ ملوث تھے میں ان کا نام نہیں لے سکتا ، لیکن ہاں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اس معاملے میں ہمارے ملک کی قد آور سیاسی شخصیات شامل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے جب ان لوگوں سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ کوئی ترمیم نہیں ہوئی، جس پر پروگرام میں موجود مبشر لقمان نے کہا کہ جب ان لوگوں نے ترمیم کا بل پڑھا ہی نہیں تو ان کو کیسے علم ہو گا، یہ لوگ صرف اسمبلیوں میں تنخواہ لینے جاتے تھے۔

(جاری ہے)

یاد رہےکہ ن لیگ کی حکومت نے ختم نبوت ﷺ کے قانون میں ترمیم کی تھی جس پرانہیں عوام اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ن لیگ کے 45ارکان اسمبلی نے جن میں 2وزیر بھی شامل تھے ، واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ اگر ختم نبوت پر اصل صورتحال پر واپس نہیں آئی تو ن لیگ کے پلیٹ فارم پر الیکشن نہیں لڑیں گے ۔ ایک وفاقی وزیر جن کا مذہبی گھرانے کے ساتھ گہرا تعلق ہے ، انہوں نے نہ صرف اعلی قیادت کے ساتھ تحفظات کا اظہار کیا تھا بلکہ اپنے حلقے کے اہم ترین سپورٹرز کو بھی بلا لیا تھا تاکہ ان سے رائے لی جائے کہ اس صورتحال میں وہ پارٹی کے ساتھ رہیں یا نہ رہیں ۔

تاہم بے جا تنقید کے بعد حکومت نے قانون ختم نبوت اصل شکل میں بحال کر دیا۔سابق وزیر قانون زاہد حامد نے انتخابی اصلاحات ترمیمی بل 2017 قومی اسمبلی میں پیش کیا ۔اس موقع پر وزیر قانون زاہد حامد کا کہنا تھا کہ ہم اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں ہمیں حلف نامے کو چھیڑنا نہیں چاہئیے تھا ۔بل بغیر کسی ردو بدل کے بغیر پیش کیا گیا ہے ۔اس کے بعد قانون ختم نبوت اصل شکل میں بحال ہو جائے گا۔