لیڈز ٹیسٹ ، پاکستانی ٹاپ آرڈز لڑکھڑا گیا ،نگاہیں سرفراز پر جم گئیں

کھانے کے وقفے پر انگلینڈ کا پلڑا بھاری

جمعہ جون 17:05

لیڈز ٹیسٹ ، پاکستانی ٹاپ آرڈز لڑکھڑا گیا ،نگاہیں سرفراز پر جم گئیں
لیڈز(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ یکم جون 2018 ء) لیڈز ٹیسٹ کے پہلے دن کھانے کے وقفے پر پاکستان نے وکٹوں کے نقصان پر رنز سکور کرلیے ہیں ۔ہیڈنگلے میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ اننگز کا آغاز اظہرعلی کے ساتھ امام الحق نے کیا جوکہ بغیرکوئی رنز بنائے سٹیورٹ براڈ کی گیند پر آﺅٹ ہوگئے۔

17 کے مجموعی سکور پر اظہر اعلی صرف دو رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے ،انہیں بھی سٹیورٹ براڈ نے ایل بی ڈبلیو آﺅٹ کیا۔حارث سہیل نے کچھ دیر برطانوی باﺅلرز کے سامنے مزاحمت کی لیکن وہ بھی 28رنز بنا کر کرس ووکس کا شکار بن گئے،اسد شفیق بھی 27بناکر ووکس کا شکار بنے، کپتان سرفراز احمد6اور اپنا پہلا میچ کھیلنے والے عثمان صلاح الدین3رنزکے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔

(جاری ہے)

پاکستان لیڈز کے ہیڈنگلے کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جا رہے میچ میں شکست دے کر 22 سال بعد سیریز اپنے نام کرنے کی خواہاں ہے۔کپتان سرفراز احمد کا ٹاس جیت کر کہنا تھا کہ لیڈز وکٹ بیٹنگ کے سازگار نظر اآرہی ہے اور اس کا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔یاد رہے کہ آخری مرتبہ قومی ٹیم نے وسیم اکرم کی قیادت میں 1996 ءمیں انگلینڈ کو دو ایک سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کی تھی۔

پاکستان نے اس اہم ترین میچ میں نوجوان بیٹسمین عثمان صلاح الدین کو ٹیسٹ کیپ دی ہے جنہیںپہلے میچ کے دوران زخمی ہونے والے بابر اعظم کی جگہ شامل کیا گیا ہے ۔گزشتہ 8 میں سے 6 ٹیسٹ ہارنے والی انگلش ٹیم بدترین دور سے گزر رہی ہے جسے میچ جیت کر سیریز بچانے کا مشکل ترین چیلنج درپیش ہے۔انگلینڈ کو گزشتہ 6 ماہ میں آسٹریلیا کے ہاتھوں ایشز میں چار صفر اور نیوزی لینڈ کے خلاف ایک صفر سے شکست ہوئی تھی۔

اگر لیڈز ٹیسٹ پاکستان نے جیت لیا یا میچ ڈرا ہوگیا تو انگلش ٹیم جو روٹ کی قیادت میں مسلسل تیسری ٹیسٹ سیریز ہار جائے گی۔پاکستانی ٹیم متحدہ عرب امارات میں 13۔2012 ءمیں انگلینڈ کے خلاف کلین سویپ کر چکی ہے اور اگر آج شروع ہونے والے لیڈز ٹیسٹ میں گرین کیپس نے میزبان ٹیم کو شکست دی تو سرفراز، مکی آرتھر اور انضمام کے کمبی نیشن میں پاکستانی شاہین ایک اور اعزاز اپنے نام کر کے بلندیوں کی جانب پرواز کریں گے۔دوسرے ٹیسٹ میں ناکامی یا ڈرا ہونے کی صورت میں مئی 2014ءکے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب انگلینڈ کو اپنے ہی ملک میں شکست کا کڑوا گھونٹ سہنا پڑے گا۔