افغانستان ، نصف سے زائد بچے اسکول نہیں جاتے،27لاکھ لڑکیاں تعلیم کے زیور سے محروم

پیر جون 19:33

نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان میں بچوں کی نصف آبادی اسکول نہیں جاتی،سکول نہ جانے کی وجوہات میں غربت، بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک، کم عمری میں شادی اور دیگر شامل ہیں،37لاکھ بچوں میں سے 27لاکھ لڑکیوں پر مشتمل ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں بچوں کی نصف آبادی اسکول نہیں جاتی جبکہ افغانستان نے عالمی ادارے کی رپورٹ پروضاحت دیتے ہوئے کہاہے کہ سینتیس لاکھ بچوں میں ستائیس لاکھ لڑکیاں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

اقوام متحدہ کی رپورٹ نے افغانستان کے اسکولوں میں بچوں کی تعداد کا تہلکہ خیزانکشاف کرڈالا۔ یونیسیف کی رپورٹ کیمطابق افغانستان کی نصف آبادی اسکول ہی نہیں جاتی۔ اسکول نہ جانے کی وجوہات میں غربت، بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک، کم عمری میں شادی اور دیگر شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سات سال سے سترہ سال کی عمر کے سینتیس لاکھ ، تقریبا چوالیس فیصد بچے اسکول نہیں جاتے۔ یونیسف کی رپورٹ پر افغانستان کے وزیرتعلیم میر واعظ بالغی نیوضاحت دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اسکول نہ جانے والے سینتیس لاکھ بچوں میں سے ستائیس لاکھ لڑکیاں ہیں۔