اسلام یتیموں، مسکینوں، بیواؤں اور غریب طبقے کو سہارا دینے کا حکم دیتا ہے، سید محمود الحسن باچہ

جمعہ جون 18:54

مردان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) عالمی متحدہ مشائح کونسل کے جنرل سیکرٹری سید محمود الحسن باچہ نے کہا ہے کہ اسلام یتیموں، مسکینوں، بیواؤں، بے سہارا اور غریب طبقے کو سہارا دینے، ان کی مکمل کفالت کرنے، ان سے پیار کرنے اور انہیں کھانا کھلانے، انہیں وسائل مہیا کرنے اور انہیں آسودگی فراہم کرنے کی ناصرف ترغیب دیتا ہے بلکہ معاشرے کے بے کس، محروم، نادار طبقے اور سوسائٹی کے محتاج، بے سہارا اور معصوم بچوں کی کفالت کے اہتمام کا حکم بھی دیتا ہے۔

ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے زمونگ جذبہ ویلفیئر سوسائٹی مردان کے زیر اہتمام یتیم ولاچار بچوں میں عید الفطر پیکجیز تقسیم کر نے کی تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے کیا تقریب سے ادارے کے چیئرمین محمد پرویز،غنی رحمان،حافظ محمد اسماعیل،سید خالد حسین باچہ،سب ساتھ کا فاونڈیشن کے تیمور خان،عطاء اللہ،قیصر خان،پارٹ آرگنائز یشن کے فیاض الاسلام،انجنیئر جان شیر،مہناز بی بی،خدائی خدمتگار فضل شاہ،نو رزمان تنولی اور عنایت پا پا نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

مقررین نے کہا کہ معاشرے کے اس طبقے کو محروم رکھنے والوں کے لیے اسلام نے سخت وعید سنائی ہے اور کہا ہے کہ دین اسلام کو جھٹلانے والے وہ لوگ ہیں جو یتیموں کو دھکے دیتے ہیں، ان سے پیار نہیں کرتے، ان کی کفالت نہیں کرتے اور انہیں آسودگی دینے پر اپنا مال خرچ نہیں کرتے۔ وہ یتیموں کی ایسی کفالت نہیں کرتے جیسے اپنے بچوں کی کرتے ہیں۔ معاشرے کے ایسے افراد جو وسائل رکھتے ہوئے بھی اپنے مال سے یتیموں اور محتاجوں کا حصہ نہیں نکالتے ان کی نمازیں، حج و دیگر اعمال اللہ رب العزت رد فرما دیتا ہے۔

ایسے لوگوں کو دوزخ کے عبرتناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے کہ جو اپنی نمازوں کی تو بڑی فکر کرتے ہیں مگر سوسائٹی کے محروم و محتاج بچوں کے سروں پر سایہ نہیں بنتے۔ انہیں اپنی نماز کا تو بڑا فکر رہتا ہے مگر وہ ان محتاجوں، یتیموں اور بیواؤں کی فکر نہیں کرتے، ایسے نمازیوں کو قرآن پاک میں ریاکار کہا گیا ہے، جو نمازیں تو پابندی سے پڑھتے ہیں، لیکن وہ نماز کی اصل روح سے غافل ہیں، دراصل یہ نمازیں ان نادار اور بے بس وبے کس طبقے کی مدد کا سبق دیتی ہیں۔

جو لوگ محتاج طبقے کو برتنے کی کوئی معمولی چیز مانگنے پر بھی نہیں دیتے اور وہ ان محتاجوں کو دھتکار دیتے ہیں، انہیں بخیل کہا گیا ہے۔یہ بچے تعلیم و تربیت اور مناسب سہولیات نہ ملنے کے باعث معاشرتی اور سماجی محرومیوں کا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ کئی تو بے را روی تک کا شکار ہو جاتے ہیں۔توجہ اور بنیادی سہولیات نہ ملنے کے باعث یہ یتیم بچے معاشرے کے بے رحم تھپیڑوں کی نظر ہو جاتے ہیں جہاں ان کی تعلیم و تربیت ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

متعلقہ عنوان :