صوابی ‘سپیکر اسدقیصر مخمصے کا شکار اپنے حلقہ سے شکست دیکھ کر مہمان اداکار کے طور پر پی کی43میں کودنے کیلئے تیار

بدھ جون 12:06

صوابی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) سپیکر اسدقیصر مخمصے کا شکار اپنے حلقہ سے شکست دیکھ کر مہمان اداکار کے طور پر پی کی43میں کودنے کیلئے تیار اس دفعہ پھر کارکنان سے قربانی مانگیں گے تفصیلات کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے سپیکر اسد قیصر کے حلقہ سے ان کے سٹرانگ ووٹ پڑوسی حلقہ میں چلے گئے اور صوابی مانیری،سلیم خان پنج پیر یونین کونسلوں کے ساتھ ان کا آبائی یونین کونسلز مرغز،بام خیل ودیگر کی پی کی44میں شامل ہونے پر ان کی سیاسی پوزیشن مخدوش ہوگئی جب کہ پرانا حلقہ پی کی36سے رنگیز پی ٹی آئی کے مضبوط امیدوار تھے ان کا زاتی ووٹ اور ویلج کونسل پی کی43سے پی کی44میں چلا گیا اور پی کے 43سے پاکستان تحریک انصاف کے کئی امیدوارں نے ٹکٹ کیلئے درخواستیں دیں جس میں عثمان شیر ، تحصیل نائب ناظم محمد یونس، عامر خان ، ندیم خان زروبی، جاوید خان ،نعمت خان کوٹھا،محمدآمین اخونزادہ مینئی اور گندف سے دولت خان شامل ہیں سپیکر اسد قیصر تو پہلے رنگیز کو اپنے حلقہ سے پرائی حلقہ پی 43میں دکھیلنا چاہتے تھے لیکن اپنے حلقہ انتخاب پی کی44میں اپنی پوزیشن مشکوک دیکھ کر پی کی43کیلئے پر تولنے لگے اس کیلئے تمام نامزد امیدواروں کو آپس میں ایک سازش کے تخت لڑواکر خود ٹکٹ پر قبضہ کے خواہاں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تمام حلقہ جات کیلئے ٹکٹ پاکستان تحریک انصاف کی طرف جاری کئے گئے مگر پی کی43کیلئے ابھی تک فائنل نہیں کیا ہے ادھر ٹوپی کے عوام نے مہمان امیدوار بلخصوص اسد قیصر اور رنگیز کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ان دونوں نے اپنے مفاد کیلئے نے ٹوپی کے عوام کو کوٹھا کیساتھ لڑانے کی ہر ممکن کوشش کی ہیں اور جو کالج ٹوپی آراضی پر تعمیر کیا گیا ہے ا سکو کوٹھا سے منسوب کرکے بعد ازاں حق کیلئے آواز بلند کرنے والے ناظمین میڈیا نمائندگان اور عام عوام کے 23افراد پر چوری کا الزام لگا کرپولیس کے زریعے بے عزت کیا ھے ادھرپی ٹی آئی کے مقامی تنظیم میں بھی بغاوت کی سماں ہیں۔