عراق، الحشد کے 45،46برگیڈ پر حملے میں 22جنگجو ہلاک ،12زخمی

حملہ اسرائیل و امریکی گٹھ جوڑ کا شاخسانہ ہے، عراقی شیعہ ملیشیا الحشد السبعی

منگل جون 15:50

بغداد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) عراقی شیعہ ملیشیا الحشد السبعی نے البو کمال میں حملے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں الحشد السبعی کے 22جنگجو ہلاک جب کہ 12زخمی ہوئے، الحشد نے حملے کی ذمہ داری اسرائیل اور امریکہ پر عائد کر دی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراق کی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی نے سوموار کو جاری ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ شام کے سرحدی علاقے البوکمال میں اس کے ایک مستقل اڈے پربمباری کی گئی جس کے نتیجے میں الحشد ملیشیا کے 22 جنگجو ہلاک ہوئے۔

الحشد ملیشیا نے البوکمال شہر میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پرعاید کی ہے۔ اس سے پیشتر شامی حکومت بھی البوکمال میں ہونے والی فضائی بمباری کی ذمہ داری عالمی فوجی اتحاد پر عاید کرچکی ہے۔

(جاری ہے)

الحشد ملیشیا کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز مبینہ طورپر امریکی جنگی طیاروں نے عراق اور شام کی سرحد پر واقع البوکمال شہر میں تنظیم کے ایک مستقل مرکز پر بمباری کی گئی۔

یہ مرکز الحشد ملیشیا کے بریگیڈ 45 اور 46 کا اڈہ ہے۔ اس مرکز کو ڈرون طیاروں کے ذریعے داغے گئے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 22 جنگجو ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔قبل ازیں انسانی حقوق آبرز ویٹری کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا تھا کہ البوکمال شہر میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں 52 افراد ہلاک ہوئے جن میں 30 عراق سے جب کہ 16 شام سے تعلق رکھتے ہیں۔شامی حکومت نے اس حملے کی ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پرعاید کی تھی تاہم امریکا نے ان حملوں سے لاعلمی کا اظہار کرتے البوکمال میں بمباری کا الزام مسترد کردیا ہے۔