روس، غیرملکی شائقین مقامی لڑکیوں کی محبت میں گرفتار

ماسکو کی گلیوں میں غیرملکی افراد روسی لڑکیوں کے ساتھ گھومنے پھر نے میں مشغول

بدھ جون 12:31

روس، غیرملکی شائقین مقامی لڑکیوں کی محبت میں گرفتار
ماسکو (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20جون 2018 ء) فیفا ورلڈ کپ کے لیے روس پہنچنے والے غیرملکی شائقین مقامی لڑکیوں کی محبت میں گرفتار ہونے لگے۔۔فیفا ورلڈ کپ کے لیے روس پہنچنے والے غیرملکی شائقین مقامی لڑکیوں کی محبت میں گرفتار ہونے لگے، خاص طور پر ماسکو کی گلیوں میں غیرملکی افراد کو روسی لڑکیوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ارجنٹائن کے ایک شائق آگسٹن اوٹیلو کا کہنا ہے کہ میں نے اب تک چار لڑکیوں کے موبائل نمبر حاصل کیے ہیں، میرا اپنے دوستوں کے ساتھ مقابلہ ہے کہ ہم یہاں پر کتنی لڑکیوں کے نمبرزحاصل کرپاتے ہیں۔

یاد رہے کہ ٹورنامنٹ کے آغاز پر ایک مقامی کمیونسٹ لیڈر نے روسی خواتین کو خبردار کیا تھا کہ وہ غیرملکیوں سے دور رہیں۔اس سے قبل روسی حکومت نے اپنے ہی ملک کی سینئر خاتون قانون دان کی روسی خواتین کوغیر ملکیوں سے جنسی تعلق رکھنے سے گریز کی اپیل نظر انداز کرتے ہوئے خواتین کیلئے جنسی تعلق کی کھلی چھوٹ دی تھی ۔

(جاری ہے)

ماسکو حکومت نے کہا تھا کہ روسی خواتین اپنے ذاتی معاملات خود طے کر سکتی ہیں اور عالمی کپ مقابلوں کے دوران وہ اگر کسی کے ساتھ جنسی رابطہ پیدا کرنا چاہتی ہیں تو یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہو گا۔

کریملن کی طرف سے روسی خواتین کی ذاتی زندگی پر یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا گیا ہے، جب روسی خاتون قانون دان تامارا پلینٹنوا نے کہا تھا کہ روسی خواتین ورلڈ کپ مقابلوں کو دوران روس آنےوالے سیاحوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے نے سے گریز کریں کیونکہ یوں ’روسی نسل‘ مخلوط ہو جانے کا خدشہ ہو گا تاہم روسی حکومت نے اس سینئر قانوندان کے اس تجویز کے جواب میں کہا کہ روسی خواتین جس کے ساتھ چاہیں، سوئیں۔

70 سالہ خاتون سیاستدان تامارا پلینٹنوا روسی پارلیمان میں امور خانہ داری امور کی چیئرپرسن ہیں اور وہ پہلے بھی خبردار کر چکی ہیں کہ غیر ملکیوں سے جنسی رابطے کے نتیجے میں ایسا ممکن ہے کہ روسی خواتین ’کسی اور نسل‘ کے بچوں کی نشوونما کر رہی ہوں۔ نسل پرستی پر مبنی ان کا یہ بیان فٹ بال کے عالمی منتظم ادارے فیفا کی بنیادی اقدار سے متصادم تھا۔

ایک ریڈیو پروگرام میں انہوں نے اپنے اس خدشے کا اظہار کیاکہ روسی نسل خراب ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی کپ مقابلوں کے دوران روس میں ’ایسی نوجوان خواتین ہوں گی جو کسی سے ملیں گی اور ان کے بچوں کو جنم دے دیں گی‘۔ اس معمر سیاستدان نے مزید کہا، ’مجھے امید ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔اس متنازعہ بیان میں تامارا پلینٹنوا نے مزید کہاکہ ہمیں صرف اپنے بچوں کو ہی جنم دینا چاہیے۔

انکا یہ بھی کہنا تھا کہ شادی کے نتیجے میں روسی خواتین کو اپنا وطن چھوڑ کر کہیں اور بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ1980ءمیں روس میں اولمپک مقابلوں کا انعقاد کیا گیا تھا اور اس دوران غیر ملکی سیاحوں نے روسی خواتین کے ساتھ تعلقات قائم کیے اور بچے پیدا کرنے کے بعد انہیں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔تامارا پلینٹنوا کے ان بیانات کے کچھ گھنٹوں بعد ہی روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ان سے دوری اختیار کر لی تھی۔ انہوں نے کہاکہ روسی خواتین اپنے ذاتی معاملات کا خود خیال رکھ سکتی ہیں وہ دنیا کہ بہترین خواتین ہیں۔