بھارت ،ْ گائے ذبح کرنے کے الزام میں تشدد سے ایک اور مسلمان ہلاک ،ْدوسرا زخمی

سامایودین کے اہل خانہ کے حوالے سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ وہ گائے ذبح کرنے میں ملوث ہیں ،ْ پولیس رپورٹ ْ

بدھ جون 17:00

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) بھارت کی ریاست اتر پردیش میں مشتعل ہجوم نے مبینہ طور پر گائے ذبح کرنے کا الزام لگا کر 2 مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق واقعہ دہلی سے 70 کلومیٹر دور ایک گاؤں میں پیش آیا۔۔ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت 45 سالہ قاسم کے نام سے کی گئی ،ْ مقامی ہسپتال میں زیر علاج زخمی شخص کی شناخت 65 سالہ سامایودین کے نام سے ہوئی۔

واقعہ کے حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ کچھ افراد سے تلخ کلامی کے بعد مشتعل ہجوم نے دونوں افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ادھر انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ متاثرہ خاندان اور گرفتار ملزمان نے الزام لگایا کہ ہجوم نے دونوں افراد پر مبینہ طور پر گائے کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے پر حملہ کیا تھا۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ مذکورہ واقعہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی ہے جس میں قاسم کو ہجوم کے سامنے تشدد کے بعد جان کی بازی ہارتے ہوئے دیکھا گیا۔

اس موقع پر قاسم شدید درد کے باعث چلا رہا تھا جبکہ ہجوم میں موجود کسی بھی فرد نے اس کی مدد نہیں کی۔ویڈیو میں ایک شخص کو یہ کہتے بھی سنا گیا کہ تم نے اسے مارا اور اس پر تشدد کیا، لیکن اب بہت ہو چکا ،ْیہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کے نتائج بھی ہوسکتے ہیں‘۔ ویڈیو میں ایک اور شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ اگر ہم 2 منٹ تاخیر سے آتے یہ لوگ گائے کو ذبح کرچکے ہوتے واضح رہے کہ ویڈیو میں کہیں بھی کوئی گائے نظر نہیں آرہی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق سامایودین کے اہل خانہ کے حوالے سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ وہ گائے ذبح کرنے میں ملوث ہیں۔سینئر پولیس افسر پون کمار نے بتایا کہ گاؤں سے گزرنے والے 2 موٹر سائیکل سواروں اور مقامی افراد کے درمیان راستے سے گزرنے پر تلخ کلامی ہوئی تھی جس کے بعد مقامی افراد نے ان پر حملہ کیا اور ان میں سے ایک کو تشدد کر کے ہلاک کردیا۔۔پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے 2 افراد کو گرفتار کرلیا، پولیس کے مطابق گائے کے ذبح کیے جانے کے حوالے سے افواہیں بھی گردش کررہی ہیں اور ان کی تحقیقات جاری ہیں۔