سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا صوبائی سطح پر انسپکٹر جنرلز اور چیف سیکرٹریز بشمول وفاقی چیف کمشنر اور انسپکٹر جنرل کے تبادلوں پر تشویش کا اظہار

ان تبادلوں اور تعیناتیوں کیلئے شفاف طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا ، سینئر افسران کو نظر انداز کرکے جونیئر افسران کو تعینات کرنا سراسر زیادتی ہے، کمیٹی نے ان تمام تقرریوں اور تبادلوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

جمعرات جون 20:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے صوبائی سطح پر انسپکٹر جنرلز اور چیف سیکرٹریز بشمول وفاقی چیف کمشنر اور انسپکٹر جنرل کے تبادلوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تبادلوں اور تعیناتیوں کیلئے شفاف طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا اور سینئر افسران کو نظر انداز کرکے جونیئر افسران کو تعینات کیا گیا جو کہ سراسر زیادتی ہے، کمیٹی نے ان تمام تقرریوں اور تبادلوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر محمد طلحہ محمود کی سربراہی میں جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں سیکرٹری کابینہ ڈویژن، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور متعلقہ اداروں کے سربراہان اور اعلیٰ افسران نے بریفنگ دی۔

(جاری ہے)

سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور کابینہ ڈویژن اور ذیلی ادارے انتہائی اہم معاملات دیکھ رہے ہیں جن پر تمام اداروں سے تفصیلی بریفنگ لی جائے گی۔

سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ ریگولیٹری اتھارٹیز کو متعلقہ وزارتوں کے دائر اختیار میں ہونا چاہیے نا کہ کابینہ ڈویژن کے جس پر سیکرٹری کابینہ نے بتایا کہ ریگولیٹری اتھارٹیز کو متعلقہ وزارتوں کے دائرہ کار میں دینے سے انتظامی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس کی بناء پر یہ اتھارٹیز کابینہ ڈویژن کے تحت کام کر رہی ہیں۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود نے استفسار کیا کہ اگر ریگولیٹری اتھارٹیز کے متعلقہ وزارتوں کے دائر ہ کار میں رہنے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں تو پھر پیمرا کو وزار ت اطلاعات کے تحت کیوں رکھا گیا ہی ۔

سینیٹر محمد طلحہ محمود نے اس مسئلے پر کابینہ ڈویژن سے تفصیل جواب طلب کر لیا۔ ذیلی اداروں کی جانب سے بریفنگ میں سینیٹر طلحہ محمود نے نیپرا ، اوگرا ،،پی ٹی اے اور دیگر دوسرے اداروں کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے اور فیصلہ کیا کہ ان تمام ذیلی اداروں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ لی جائے گی۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ہماری ٹرانسمیشن لائنز ناکارہ ہو چکی ہیں اور بجلی کے بلز کی ریکوری کے مسائل ہیں جس کے لئے نیپرا کو زیادہ موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

کمیٹی نے انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈکرنے کا بھی سختی سے نوٹس لیا اور کہا کہ پی ٹی اے اور ایف آئی اے باہمی رابطہ کاری کو مؤثر بنا کر ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں جو اس طرح کے گھنائونے فعل میں ملوث ہوں۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز جاوید عباسی اور نجمہ حمید نے شرکت کی۔