سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، ریونیو و اقتصادی امور کا اجلاس، قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد ان علاقوں میں کاروبار کیلئے ٹیکس استثنیٰ کے معاملہ کا جائزہ لیا گیا

جمعہ جون 22:27

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، ریونیو و اقتصادی امور نے وفاق اور صوبوں کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد ان علاقوں میں کاروبار کیلئے ٹیکس استثنیٰ کے معاملہ کا جائزہ لیا۔ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں پنشنرز کو ٹیکس گوشوارے جمع کرانے سے استثنیٰ دینے سے متعلق میجر (ر) غلام عباس کی پبلک پٹیشن کے معاملہ پر ایف بی آر کے ممبر آئی آر ڈاکٹر محمد اقبال نے بتایا کہ ایف بی آر رولز کے تحت پنشنرز پر اسی صورت ٹیکس عائد کیا جاتا ہے جب ان کے پاس قابل ٹیکس منقولہ و غیر منقولہ پراپرٹی ہو یا وہ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی دوسری ملازمت اختیار کر لیں۔

انہوں نے کہا کہ پنشنرز ٹیکس لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

چیئرمین کمیٹی نے اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پٹیشن کو نمٹا دیا اور ہدایت کی کہ پٹیشنر کو فیصلے سے آگاہ کیا جائے۔ اسی طرح قبائلی علاقوں کے انضمام کے حوالے سے حکومت کی جانب سے ٹیکس ریلیف کے نظام پر عملدرآمد کے طریقہ کار کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی کے ممبران نے اس بات پر زور دیا کہ بدامنی سے تباہ علاقے کے لوگوں کو سہولت دینے کے لئے حکومت ان علاوقوں کے کاروباروں کیلئے کم سے کم پانچ سال کیلئے ٹیکس سے استثنیٰ پر عمل کرے۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 247 کے تحت دی گئے ہر طرح کے استثنٰی پر مکمل طور پر عمل کیا جائے۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ان علاقوں میں رعایتی قرضے بھی دیئے جائیں جس سے نئے کاروبار شروع کرنے کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ سینیٹر فدا محمد نے ٹیکس استثنیٰ کا معاملہ متعلقہ فورمز پر اٹھانے کیلئے 9 رکنی کمیٹی بنانے کی تجویز دی۔ چیئرمین فاروق ایچ نائیک نے کمیٹی کا اجلاس 29 جون کو طلب کرتے ہوئے اس معاملہ پر مکمل تفصیلات کیلئے وزارت قانون و انصاف، ای سی سی اور کابینہ ڈویژن کے ساتھ رابطہ کی ہدایت کی۔

اجلاس میں سینیٹر محمد عتیق، محمد اکرم، محسن عزیز، دلاور خان، اورنگزیب خان کے علاوہ متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں سینیٹر مرزا محمد آفریدی، فدا محمد اور شمیم آفریدی کو علاقے کے لوگوں کی رائے جاننے کیلئے خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔