دُبئی:بارہویں گریڈ کے امتحان کاپرچہ لِیک ہونے پرپانچہزار افراد کو ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا

وزارت تعلیم نے نقل میں ملوث طالب علموں کی شناخت بھی ظاہر کر دی

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جون 15:35

دُبئی ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26جُون 2018ء) متحدہ عرب امارات میں بارہویں گریڈ کا پرچہ دینے والے طالب علموں نے سوشل میڈیا اپیلیکیشنز اور واٹس ایپ کے ذریعے پرچے کی تصویریں بنا کر وائرل کر دیں۔ وزارت تعلیم کے ترجمان کے مطابق پیپر کی بنائی گئی تصویر پر ظاہر ہونے والے وقت 12:05 سے پتا چلتا ہے کہ پیپر تقسیم کیے جانے کے پانچ منٹ بعد ہی لِیک ہو گیاتھا جس کی وجہ سے طالب علموں کی بڑی تعداد نقل کرنے کی مُرتکب پائی گئی۔

سوشل میڈیا پر تقریباً پچپن سو افراد نے اس پرچے کو شیئر کیا یا اس کے مندرجات پر بحث کی۔ ان افراد میں طالب علموں کے علاوہ اُن کی مائیں بھی شامل تھیں۔وزارت کے ترجمان کے مطابق امتحانی مراکز میں موبائل فون لانے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ اس کے باوجود موبائل فونز سے پرچے کی لی گئیں تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ امتحانات کی نگرانی پر تعینات عملے نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پُوری نہیں کیں اور غفلت کا مظاہرہ کیا۔

(جاری ہے)

اس واقعے کے ذمہ دار طالب علموں کا پتا لگا کر اُن کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جا رہی ہے ان طالب علموں پر تیسری مُدت کے امتحانات پر پابندی عائد کر دی جائی گی اور انہیں تمام گریڈز میں صفر سے نوازا جائے گا۔جبکہ وزارت نے غفلت کے مرتکب امتحانی نگرانوں کے نام منگوا لیے ہیں جن سے محکمہ تفتیش کرے گا۔ ان افراد کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو ان کی ملازمتوں سے برخاستگی پر منتج ہو سکتا ہے۔

پرچہ لِیک ہونے کے بعد وزارت کی جانب سے امتحانی پرچوں کی تصویریں بنانے اور اُنہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والوں کو تنبیہ کرنے کی غرض سے انسٹا گرام پر وارننگ کی گئی تھی ’’اگر کوئی شخص امتحانات سے متعلق کوئی معلومات یا تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کا مرتکب پایا گیا تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔