وسائل کا ضیاع اور بے ہنگم و بے سود اخراجات ماضی کا حصہ بن چکے ہیں،محمودخان

سادگی مہم کے نتیجے میں حاصل ہونے والی بچت ضرورت کی بنیاد پر صوبے کے مفاد اور عوامی خوشحالی کیلئے خرچ کی جائے گی صوبے کے جنوبی اضلاع میں قدرتی وسائل کی ترقی سمیت وہاں کی وسیع و عریض بنجر اراضی کو زیر کاشت لاکر زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے،وزیراعلی خیبرپختونخوا

منگل نومبر 20:33

وسائل کا ضیاع اور بے ہنگم و بے سود اخراجات ماضی کا حصہ بن چکے ہیں،محمودخان
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے حکومت کی کفایت شعاری و سادگی مہم کیلئے کمر مزید مضبوط کرنے ، ہرسطح پر مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے ، وسائل کے ضیاع اور غیر ضروری استعمال کی حوصلہ شکنی کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ کفایت شعاری مہم کے ذریعے حاصل ہونے والے وسائل کو عوامی مفاد ، اداروں کی مضبوطی اورگورننس اور سماجی شعبوں دونوں کی بہتری کیلئے بروئے کار لایا جائے گا۔

وسائل کا ضیاع اور بے ہنگم و بے سود اخراجات ماضی کا حصہ بن چکے ہیں، اُن کی حکومت صوبائی خزانے کی ایک ایک پائی کا عوامی فلاح و بہبود میں استعمال یقینی بنائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

صوبائی وزراء شہرام خان ترکئی، تیمو ر سلیم جھگڑا، اشتیاق ارمڑ ، اکبر ایوب ، چیف سیکرٹری نوید کامران بلوچ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش ، سیکرٹری خزانہ شکیل قادر خان، سیکرٹری توانائی سلیم خان اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔

وزیراعلیٰ نے صوبائی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے اور پی ٹی آئی کو وراثت میں ملے محدود وسائل اور لامحدودمسائل پر روشنی ڈالی اور کہاکہ ماضی میں وسائل کے بے دریغ استعمال اور حکمرانوں کی شاہ خرچیوں کی وجہ سے عوامی پسماندگی اور محرومی میں بے حد اضافہ ہوا۔ اس تشویشناک صورتحال سے قوم کو نکالنے کیلئے کفایت شعاری کی مہم شروع کی گئی ہے ۔ محمود خان نے کہاکہ وہ ہر سطح پر سادگی اور کفایت شعاری یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ہدایت پہلے سے جاری کر چکے ہیں۔

انتظامی اور آپریشنل سطح پر غیر ضروری اخراجات پر کامیابی سے قابو پایا جا چکا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سادگی مہم کے نتیجے میں حاصل ہونے والی بچت ضرورت کی بنیاد پر صوبے کے مفاد اور عوامی خوشحالی کیلئے خرچ کی جائے گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اُن کی حکومت اگلے پانچ سالوں کیلئے صحیح سمت کا تعین کر چکی ہے جو 100 روزہ ایجنڈے کا حصہ تھی ۔ صوبائی حکومت صوبے کے مختلف علاقوں میں پائے جانے والے مختلف نوعیت کے قدرتی ذخائر کی ترقی اور استعمال کی قابل عمل منصوبہ بندی کر چکی ہے ۔

صوبے کے جنوبی اضلاع میں قدرتی وسائل کی ترقی سمیت وہاں کی وسیع و عریض بنجر اراضی کو زیر کاشت لاکر زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔صوبے کے شمالی اضلاع کے بھی اپنے وسائل ہیں جن کو ایکسپلور کرنے اور اُنہیں استعمال میں لانے پر توجہ دی جائے گی ۔ صوبائی حکومت ان خطو ط پر پہلے سے کام کر رہی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت ہزارہ اور ملاکنڈکی ترقی کیلئے بھی پر عزم ہے جہاں سیاحت کی بے پناہ استعداد موجود ہے ، جس کو ترقی دینے کی ضرورت ہے ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ مذکورہ شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ نوجوانوں کو پیداواری شعبوں میں شامل کیا جائے ۔ اس طریقے سے وہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں کردار ادا کرنے کے قابل ہوں گے اور دوسری طرف متعلقہ علاقوں کے وسائل کے نتیجہ خیز استعمال کا راستہ بھی ہموار ہو گا۔ ان سرگرمیوں کی وجہ سے بیروزگار وں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔

تجارتی اور کمرشل سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور پیداواری شعبوں کی برآمدت میں اضافہ ہو گا۔ اس مجموعی عمل سے بلاشبہ صوبے کی مالی بنیاد کو استحکام ملے گا۔ معیشت مضبوط ہو گی اور عوامی فلاح و ترقی میں مدد حاصل ہو گی ۔ محمود خان نے یقین دلایا کہ اُن کی حکومت عوام کو درپیش بنیادی مسائل کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرے گی ۔ عوام کو انصاف اور حق کی فراہمی ، میرٹ کی بالاد ستی اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

یہ کوشش عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل یقینی بنائے گی ایک ایسا معاشرہ جس میں خدمات کی فراہمی کا موثر نظام موجود ہو گااور کسی کی حق تلفی نہیں ہو گی ۔ سب کو ترقی اور خوشحالی کے یکساں مواقع اور حقوق میسر ہوں گے ۔ پہلے کی طر ح امیر اور غریب کیلئے الگ الگ قوانین نہیں ہوں گے بلکہ سب کیلئے یکساں قانون ہو گا۔ اُن کی حکومت اصلاحاتی نظام کے تحت سب کو یکساں میدان فراہم کرے گی ۔