ایس ای سی پی نے اینٹی نی لانڈرنگ/کاؤنٹر فنانشل ٹیرارزم فریم ورک کے تحت رپورٹنگ کی وضاحت کر دی

جمعہ اپریل 22:58

ایس ای سی پی نے اینٹی نی لانڈرنگ/کاؤنٹر فنانشل ٹیرارزم فریم ورک کے تحت ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 اپریل2019ء) سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان نے وضاحت کی ہے کہ سرکلرز نمبر 8, 9 اور 10 کے تحت اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹرنگ فناسنگ آف ٹیرارزم کی رپورٹنگ کے تقاضوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ تاہم وضاحت کی جاتی ہے کہ ایس ای سی پی کے سرکلر نمبر S.R.O. 245 (I)/2019 مجریہ 22 فروری 2019کے ذریعے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لئے رپوٹنگ کا ایک جامع فریم ورک تشکیل دے دیا گیا ہے۔

ایس ای سی پی کے سرکلر نمبر S.R.O. 245 (I)/2019 میں ایف اے ٹی ایف کی سفارشات اور ایس ای سی پی اے ایم ایل/سی ایف ٹی ریگولیشنز 2018 کے تحت ایس ای سی پی کے تمام ریگولیٹیڈ اداروں اور اشخاض بشمول سکیورٹیز بروکرز، فیوچر بروکرز، بیمہ کاروں، تکافل آپریٹرز، غیربینکی مالیاتی اداروں اور مضاربہ کے لئے رپوٹنگ کا جامع فریم ورک تشکیل دے دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

اس ایس آر او کے تحت، تمام ریگولیٹڈ اشخاض کے لئے لازمی ہے کہ وہ اپنے ادارے کی رسک اور کمپلائنس رپورٹ ہر سال جمع کروائیں جبکہ ہر چھ ماہ کے بعد اے ایل ایل رجیم کی کمپلائنس کے تسلی بخش ہونے سے متعلق معلومات اور ڈیٹا جمع کروائیں۔

مزیدبراں، تما م ریگولیٹڈ ادارے اور اشخاص ایس ای سی پی کی جانب سے تقاضا کئے جانے پر، اقوام متحدہ کی سکیورٹیز کونسل کی قرارداد پر عمل درآمد کی رپورٹ تین دن کے اندر اندر جمع کروانے کے پابند ہیں۔