دنیا بھر میں ہر سال سب سے زیادہ 554 ارب روپے کی زکوٰة،عطیات، صدقات و خیرات پاکستان میں دیئے جاتے ہیں،

خیرات کرتے وقت ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہماری خیرات ،زکوٰة ،عطیات ا ور صدقات کہیں رحمت کی بجائے زحمت نہ بن جائیں،انتہا پسندانہ سوچ کے حامل افراد و اداروں کے ساتھ ساتھ نشہ کے عادی افراد کو بھی خیرات یا صدقات نہ دیئے جائیں،صرف حقدار و مستحق شخص کو ہی امداد فراہم کرنا بہتریں عبادت و سعادت ہے، وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام حق حقدار تک کے موضوع پر منعقدہ سیمینا ر سے مقررین کا خطاب

جمعرات مئی 22:30

دنیا بھر میں ہر سال سب سے زیادہ 554 ارب روپے کی زکوٰة،عطیات، صدقات و خیرات ..
فیصل آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 مئی2019ء) دنیا بھر میں ہر سال سب سے زیادہ 554 ارب روپے کی زکوٰة،عطیات، صدقات، خیرات پاکستان میں دیئے جاتے ہیںلہٰذا خیرات کرتے وقت ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہماری خیرات ،زکوٰة ،عطیات ا ور صدقات کہیں رحمت کی بجائے زحمت نہ بن جائیںجبکہ انتہا پسندانہ سوچ کے حامل افراد و اداروں کے ساتھ ساتھ نشہ کے عادی افراد کو بھی خیرات یا صدقات نہ دیئے جائیںکیونکہ صرف حقدار و مستحق شخص کو ہی امداد فراہم کرنا بہتریں عبادت و سعادت ہے۔

حق حقدار تک کے موضوع پر عطیات دل کھول کر مگر دیکھ بھال کر دیں کے حوالے سے وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات حکومت پاکستان کے زیر اہتمام رائلٹن ہوٹل میں منعقدہ سیمینا ر سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی ڈویژنل کمشنرمحمود جاوید بھٹی، ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری لطیف نظر اور اسسٹنٹ منیجر حق حقدار تک پروگرام وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات حکومت پاکستان زاہد عثمان و دیگر مقررین نے کہا کہ یہ امر خوش ۱ٓئند ہے کہ پاکستان میں صاحب ثروت افراد ،مخیر شخصیات اور با حیثیت لوگوں کی جانب سے ہر سال دنیا بھر سے زیادہ خیرات دی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ یہ خیرات گزشتہ سالوں تک 554ارب روپے سالانہ تھی جس میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اس رقم سے کئی اہم ادارے بنائے جا سکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اسلام ایک دین فطرت اور مکمل ضابطہ حیات ہے جس کے مطابق آپ اور آپ کے مال پر سب سے زیادہ حق آپ کے والدین ،اس کے بعد بہن بھائی پھر باقی رشتہ داروں اوراس کے بعد آپ کے ہمسایوں کا ہے جس کے بعد کہیں باہر دیکھا جا سکتا ہے۔

انہوںنے کہاکہ یہ امر تشویشناک ہے کہ ہم چوکوں چوراہوں میں کھڑے لوگوں کو اپنا پیسہ بغیر سوچے سمجھے دے دیتے ہیں اور یہ خیال نہیں کرتے کہ یہ مال کہاں صرف ہو گا اور نہ ہی کبھی ہم نے سوچا ہے کہ کہیں ہمارا پیسہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی سوچ رکھنے والے عناصر یا نشہ کے عادی افراد کی طرف تو نہیں جا رہا۔انہوںنے کہاکہ خیرات ہر مذہب میں اہم مقام رکھتی ہے لیکن اس بات کا ادراک ضروری ہے کہ چیریٹی کے ضمن میں دیا جانے والا پیسہ درست مصرف کیلئے استعمال ہو۔

انہوںنے کہاکہ اکثر اوقات بلکہ خاص کر ماہ رمضان اور ذی الحج میں مختلف تنظیمیں نام بدل بدل کر عطیات ، صدقات اور کھالوں کا پیسہ وصول کرتی ہیں اسلئے ہر پاکستانی کا یہ قانونی ، اخلاقی ، انسانی فریضہ ہے کہ وہ پہلے اس بات کا اطمینان کر لے کہ وہ جس تنظیم کو عطیات و خیرات ، زکوٰة و صدقات دے رہا ہے کہیں وہ کالعدم تو نہیں اور ان کودیا جانے والا پیسہ انتہا پسندی کیلئے تو استعمال نہیں ہو رہا۔

انہوںنے کہاکہ حکومت چیریٹی کے پیسوں سے شیلٹر ہوم اور ایسے ہی دیگر ادارے بنا رہی ہے تاکہ بے سہارا افراد کو ان کا حق دیا جا سکے۔انہوںنے کہاکہ وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات حکومت پاکستان نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حق حقدار تک کے عنوان سے جو شعور و آگاہی مہم شروع کی ہے اس کے مفید نتائج حاصل ہوں گے۔انہوںنے کہاکہ ملک کو مختلف مسائل سے نکالنے کیلئے اس قسم کے اقدامات اور عوامی آگاہی ضروری ہے ۔

انہوںنے کہاکہ اگر ہم حق حقدار تک پہچانے کی صحیح نیت رکھیں تو ہمیں بہت سے ادارے ایسے نظر آتے ہیں جو واقعی ہماری خیرات ، صدقات ، عطیات کے حقدار ہیں۔انہوںنے کہاکہ وزارت اطلاعا ت کی اس آگاہی مہم کا دائرہ کار یوں تو ملک بھر میں پھیلایا جا رہا ہے لیکن اس کا اصل فوکس اکیڈیمیا اور یوتھ ہیں ۔انہوںنے کہاکہ ہم یہ نہیں کہتے کہ خیرات ، عطیات ، صدقات ، زکوٰة نہ دی جائے لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ آپ جس شخص یا ادارے کو بھی معاونت فراہم کریں وہ غیر قانونی ، غیر اخلاقی ،غیر انسانی و ملک دشمن سرگرمیوں میںملوث نہ ہو ۔

انہوںنے کہاکہ حکومت پاکستان کی ویب سائٹ پر کالعدم تنظیموں کی فہرست موجود ہے اسلئے انہیں عطیات دینے سے گریز کیا جائے۔انہوںنے سیمینار کے شرکاء سے کہاکہ وہ اس پیغام کو اپنے آپ تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس پیغام کو ہر طریقے سے آگے پھیلائیں تاکہ عوام کو مکمل آگاہی حاصل ہو سکے۔انہوںنے کہاکہ عوام کا دیا گیا پیسہ درست جگہ پر استعمال ہونے سے حکومت کو بہت سے معاملات میں ریلیف مل سکتا ہے جبکہ عوامی ضروریا ت بھی باآ سانی پوری کی جا سکتی ہیں۔