سپریم کورٹ نے عطاء الحق قاسمی کی وکیل تبدیل کرنے کی استدعا بھی مسترد کردی

اسحق ڈار نے ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی کیس میں فریق بننے کی استدعا کر دی سپریم کورٹ نے درخواست پر جواب طلب کر لیا درخواست کی حتمی منظوری کیلئے بتانا پڑے گا اسحق ڈار عدالتوں سے غیر حاضر کیوں رہے جسٹس عمر عطاء بندیال کے ریمارکس

پیر ستمبر 15:25

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 ستمبر2019ء) سابق وزیر خزانہ (ن) لیگی رہنما اسحق ڈار نے ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی کیس میں فریق بننے کی استدعا کر دی جس پر سپریم کورٹ نے درخواست پر اسحٰق ڈار سے جواب طلب کر لیا جبکہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ درخواست کی حتمی منظوری کیلئے بتانا پڑے گا اسحق ڈار عدالتوں سے غیر حاضر کیوں رہے ۔

پیر کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سابق ایم ڈی پی ٹی وی عطا الحق قاسمی کی غیر قانونی تقرری سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت عطاء الحق قاسمی نے وکیل تبدیل کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔اسحاق ڈار کے وکیل نے کیس میں فریق بننے کی استدعا کی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا پہلے اسحق ڈار کی جانب سے مقدمے میں کوئی پیش نہیں ہوا اور اب ای میل کردی گئی یہ عدالت کی تضحیک کے برابر ہے، اس درخواست سے تاثر ملتا ہے کہ کوئی شخص اپنی مرضی سے عدالتی کارروائی کا حصہ بن جائے گا۔

(جاری ہے)

اسحٰق ڈار کو برطانیہ میں کیسے نوٹس ہوسکتا ہے وہ وہاں عارضی رہائشی ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اسحاق ڈار نے ایم پی ون کے علاوہ رقم کی بھی منظوری دی، وکیل سلمان بٹ نے کہا مزید رقم پی ٹی وی نے خود دی ہوگی وہ ایک خودمختار ادارہ ہے، اسحاق ڈار کا رقم سے کوئی تعلق نہیں، قانون کے مطابق سیکریٹری معاملات کا ذمہ دار ہے وزیر نہیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا وزیروں کی جانب سے ایسے ہی احکامات دئیے جاتے ہیں کہ ان پر بات نہ آئے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے اسحق ڈار کو اپنی درخواست کی حتمی منظوری کے لیے عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا،بتانا ہوگا کہ عدالتوں سے غیر حاضر کیوں ہیں صرف اس مقدمے میں ہی نہیں باقی مقدمات کی غیر حاضری سے متعلق آگاہ کرنا ہوگا، پھر تعین کریں گے کہ کیا وہ جان بوجھ کر کارروائی سے غیر حاضر تو نہیں رہے، عدالت نے اسحاق ڈار سے درخواست پر جواب طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔