سعودی عرب میں ننھی بچی پر تشدد کرنے والے اس کے باپ نے سوشل میڈیا پر عوام سے معافی مانگ لی

دماغی طور پر مشکل میں ہونے کی وجہ سے یہ غلطی کی، میں سب سے معافی مانگتا ہوں: سعودی عرب میں مقیم فلسطینی شہری کا موقف

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ اتوار ستمبر 17:01

سعودی عرب میں ننھی بچی پر تشدد کرنے والے اس کے باپ نے سوشل میڈیا پر عوام ..
ریاض (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22ستمبر2019ء) سعودی عرب میں ننھی بچی پر تشدد کرنے والے اس کے باپ نے سوشل میڈیا پر عوام سے معافی مانگ لی ہے۔ سعودی عرب میں مقیم فلسطینی شہری نے اپنے ویڈیو پیغام میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس نے دماغی طور پر مشکل میں ہونے کی وجہ سے یہ غلطی کی۔ اس نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ میں سب سے اپنے عمل پر معافی مانگتا ہوں۔

یہ ویڈیو بناتے وقت وہ بچی بھی اس شخص کی گود میں تھی جس پر اس نے بہیمانہ تشدد کیا تھا۔
یاد رہے کہ سعودی عرب میں غیر ملکی شہری کی ننھی بچی پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص چھوٹی سی ننھی بچی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔ ویڈیو میں ایک شخص چھوٹی بچی کو تشدد کا نشانہ بناتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

بے رحم شخص چھوٹی سی چند ماہ کی بچی کو پاؤں پر کھڑا کرنا کی کوشش کرتا ہے لیکن جب وہ کھڑی نہیں ہو پاتی تو وہ اسے چہرے تھپڑ مارتا ہے اور بچے کو اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان پکڑ کر بھی تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔ وہ بچی کو ہوا میں اٹھا کر نیچے پھینکتا ہے اور بار بار یہ عمل دہراتا ہے۔ بچی تشدد کی وجہ سے شدید رو رہی تھی اور اسکا چہرہ بھی سرخ ہو چکا تھا۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے بچی کا مبینہ والد اس کو زدوکوب کر رہا ہے۔تشدد کرنے والے شخص کا تعلق فلسطین سے بتایا جارہا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حکام نے تحقیقات شروع کر دی تھیں سعودی عوام نے مجرم کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ عرب خبر رساں ادارے نے بتایا تھا کہ سوشل میڈیا پر فوٹیج کے وائرل ہونے کے بعد عوام میں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے اور بچی پر تشدد کرنے اور اس سے سفاکانہ سلوک کرنے والے شخص کوقانون کے مطابق سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

سعودی حکام نے ویڈیو کی تحقیقات شروع کردی تھیں اورسعودی عرب میں وزارت محنت و سماجی ترقی کے ترجمان خالد ابوالخیل نے کہا تھا کہ متعلقہ مراکز تک پہنچنے والی معلومات کی تصدیق ہو گئی ہے اور اب ویڈیو میں دکھائی دینے والے شخص کے بارے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ تاہم اب اس شخص نے اپنے عمل پر معافی مانگ لی ہے۔