چین : بچوں کے ڈیڑھ گھنٹے سے زائد گیمز کھیلنے پر پابندی عائد

چین میں 14 فیصد سے زائد نابالغ یا 16 سال سے کم عمر کے 33 ملین افراد انٹرنیٹ استعمال کرنے کے عادی ہیں

جمعہ نومبر 21:56

بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 08 نومبر2019ء) چین میں بچوں کو ڈیڑھ گھنٹے سے زائد اور رات 10 بجے کے بعد آن لائن گیمز کھیلنے پر پابندی عائد کرنے کا قانون نافذ کردیا گیا۔ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں 14 فیصد سے زائد نابالغ یا 16 سال سے کم عمر کے 33 ملین افراد انٹرنیٹ استعمال کرنے کے عادی ہیں۔اس قانون کو چین کے دارالحکومت بیجنگ نے متعارف کرایا ہے جو کہ ’نوجوانوں اور بچوں میں آن لائن گیمنگز کی لت کو روکنے‘ کے لیے ہے۔

(جاری ہے)

قانون کے مطابق رات 10 بجے تک تمام بچوں کو سونے کی ہدایت کی گئی ہے، چاہے ان بچوں نے اپنا اسکول کا کام مکمل کیا ہو یا نہیں، 16 سال سے کم عمر کے بچے ایک گھنٹے سے زیادہ آن لائن گیمز نہیں کھیلیں گے جب کہ انہیں چھٹی کے دن3 گھنٹے سے زیادہ گیم کھیلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔نافذ کردہ قانون میں رات 10 بجے سے صبح 8 بجے تک نوجوانوں کو گیم کھیلنے سے بھی سختی سے منع کیا گیا ہے۔چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف پریس اینڈ پبلیکیشن ترجمان کے مطابق اس ہدایت کا مقصد بچوں اور نوعمر نوجوانوں کو گیمنگ کے جنون سے روکنا ہے۔

متعلقہ عنوان :