پاکستان کی آر ایس ایس کے سربراہ موھن بھگوت کے غیرذمہ دارانہ اوراشتعال انگیز ریمارکس کی مذمت

ہفتہ 27 نومبر 2021 13:42

پاکستان کی آر ایس ایس کے سربراہ موھن بھگوت کے غیرذمہ دارانہ اوراشتعال ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 نومبر2021ء) پاکستان نے بھارت کے انتہاپسند ہندووں کی تنظیم راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ( آر ایس ایس ) کے سربراہ موھن بھگوت کے غیرذمہ دارانہ اوراشتعال انگیز ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل طورپرمسترد کردیا ہے۔ انتہاپسند ہندووں کی تنظیم راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ( آر ایس ایس ) کے سربراہ موھن بھگوت نے برصغیرکی تقسم کے عمل کوواپس کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔

ہفتہ کویہاں جاری بیان میں ترجمان دفترخارجہ نے موھن بھگوت کے  غیرذمہ دارانہ اوراشتعال انگیز ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل طورپرمسترد کردیا ۔انہوں نے کہاکہ آر ایس ایس کے سربراہ کی جانب سے عوامی سطح پراس طرح کے پرفریب اوراشتعال انگیز بیانات کوئی نئی بات نہیں ہے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے کہاکہ پاکستان بھارت میں حکمران انتہاپسند ہندوں کی تنظیم آر ایس ایس اوربے جے پی کی انتہاپسند ہندونظریہ (ہندوراشٹرا) اوراکھنڈبھارت پرمبنی توسیع پسندانہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے علاقائی امن کودرپیش خطرات کی بارہا نشاندہی کرچکاہے۔

ترجمان نے کہاکہ اس خطرناک سوچ کا مقصد بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کو مکمل طورپر دیوارسے لگانا ہے، بیرونی طورپراس سوچ سے جنوبی ایشیا میں بھارت کے تمام پڑوسیوں کوخطرات لاحق ہیں۔ ترجمان نے کہاکہ دنیا بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کو منظم طریقے سے غصب کرنے اور غیرقانونی طورپربھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں پر جاری جبر اورظلم وستم کی گواہ ہے۔

فروری 2019 کے واقعات سمیت بھارت کی عاقبت نا اندیش مہم جوئی سے علاقائی امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ترجمان نے کہاکہ پاکستان بھارت کے تسلط پسندانہ اقدامات کی مسلسل مخالفت کررہاہے ، پاکستان کسی بھی جارحانہ عزائم کو ناکام بنانے کیلئے مکمل طورپرپرعزم ہے ۔پاکستان کے عوام اور مسلح افواج امن کے لیے پرعزم رہتے ہوئے ملک کی خودمختاری اور سالمیت کا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ترجمان نے بی جے پی اور اس کے نظریاتی سر چشمہ آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایسے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کریں اور قائم شدہ حقائق کو قبو ل کرتے ہوئے پرامن بقائے باہمی کے تقاضوں پر عمل کرنا سیکھیں۔

متعلقہ عنوان :

>