پنجاب میں 26.26 ملین ایکڑ رقبہ پر فصلات کی کاشت ہو رہی ہے جن کیلئے90 ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہے،ماہرین زراعت

بدھ 12 نومبر 2025 15:18

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 نومبر2025ء) صوبہ پنجاب میں 26.26ملین ایکڑ رقبہ پر فصلات کی کاشت ہو رہی ہے جن کیلئے90 ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہے جس میں سے 37 ملین ایکڑ فٹ پانی نہری نظام،کھالہ جات و زمین کی ناہمواری کے باعث ضائع ہو جاتا اور53 ملین ایکڑ فٹ پانی آبپاشی کیلئے دستیاب ہوتا ہے جبکہ ہماری فصلوں کی ضروریات65 ملین ایکڑ فٹ ہے نیزاس کے علاوہ اہم فصلات گندم،کاشت،مکئی،گنااور دھان کی پیداوار میں اضافہ کیلئے موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات کو برداشت کر کے زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل نئی اقسام کی دریافت وقت کا اہم تقاضا ہے جس کیلئے ریسرچ و ڈویلپمنٹ کو مضبوط کرنا ہو گا،اس کے علاوہ زرعی پیداوار میں اضافہ کیلئے ایگرو ایکالوجیکل زوننگ کرنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ پھلوں،سبزیات اور ہائی ویلیو ایگریکلچر کے زیرکاشت رقبہ میں اضافہ اور ان کی ویلیو ایڈیشن کر کے بھی کثیر زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

نظامت زرعی اطلاعات کے ماہرین زراعت کے مطابق حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے زرعی برآمدات میں اضافہ کیلئے واضح روڈ میپ تیار کر رہی ہے تاکہ زرعی پیداوارمیں اضافہ کیلئے جدید ریسرچ کی روشنی میں ویلیو ایڈیشن کر کے زرعی شعبہ کے چیلنجز میں کمی اور اہم فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے جس سے کاشتکاروں کے منافع میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ کیلئے کوشاں ہے اوراس ضمن میں زراعت میں سرمایہ کاری،اصلاحات اور جدت لانے کیلئے سینٹر آف ایکسی لنس بنائے جا رہے ہیں اور صوبہ پنجاب میں قابل کاشت اراضی کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے نیزماڈل فارمز پر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ماہرین زراعت اور زرعی سائنسدانوں کے تجربات کی روشنی میں لانگ ٹرم پالیسی کی سفارشات مرتب کررہی ہے جس کی روشنی میں ایک جامع زرعی پالیسی تشکیل دی جائے گی جس سے ہماری فی ایکڑ پیداوار اور زرعی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو ان کی محنت کا معقول معاوضہ یقینی بنایا جائے گا تاکہ اضافی پیداوار کی برآمد سے ملک کیلئے زرمبادلہ بھی کمایا جاسکے۔