آبپاش علاقوں کے کاشتکار گندم کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کیلئے تصدیق شدہ بیج استعمال کریں۔ترجمان

پیر 17 نومبر 2025 23:28

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 نومبر2025ء) ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق آبپاش علاقوں کے کاشتکارگندم کی کاشت ترجیحا20 نومبر تک مکمل کر لیں اور زیادہ پیداوار کے لئے محکمہ زراعت کی منظور شدہ اقسام کا تصدیق شدہ بیج استعمال کریں جس سے ان کی پیداوار میں 20 فیصد تک یقینی اضافہ ہو سکتا ہے۔کاشتکاربوائی کے لیے20 نومبر تک شرح بیج45سے50کلوگرام فی ایکڑ استعمال کریں اور بیج کے اگا وکی شرح85 فیصد سے ہرگز کم نہیں ہونی چاہیے۔

کاشتکار کھڑی کپاس میں گندم کی کاشت کرنے کیلئے 55 سے60 کلوگرام فی ایکڑ بیج استعمال کریں۔گندم کی مختلف بیماریوں میں کانگیاری، کرنال بنٹ،گندم کی بلاسٹ اور اکھیڑا وغیرہ زیا د ہ نقصان دہ ہیں جو کہ پیداوار میں نقصان کا باعث بنتی ہیں ان بیماریوں سے بچاو کیلئے بیج کو بوائی سے پہلے تھائیو فنیٹ میتھائل بحساب دوتا اڑھائی گرام فی کلو گرام بیج یا امیڈا کلوپرڈ +ٹیبو کونا زول بحساب 4 ملی لٹر فی کلو گرام بیج لگائیں۔

(جاری ہے)

بہتر ہے کہ بیج کو زہر لگانے کے لئے گھومنے والا ڈرم استعمال کیا جائے اگر یہ میسر نہ ہو تو پلاسٹک کی ایک بوری میں وزن شدہ بیج اور سفارش کردہ زہر ڈال کر بوری کا منہ باندھ کر اوردونوں طرف سے پکڑ کر اچھی طرح ہلائیں تاکہ بیج کے ہردانے کو زہر لگ جائے خیال رہے کہ بوری کو تقریبا آدھا بھرا جائے۔گندم کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے کھیت کا تیاراور ہموار ہونا بہت ضروری ہے۔

وریال کھیتوں میں دو یاتین دفعہ ہل چلائیں اورجہاں کہیں زمین کوہموار کرنا ضروری ہو کر اہ یالیزرلیولرسے زمین کو ہموار کریں۔رانی سے پہلے کھیتوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں تاکہ کم پانی سے زیادہ رقبے پر رانی ہوسکے۔ جب بوائی کا وقت نزدیک آئے تو سورج نکلنے سے پہلے ہل چلائیں اور سہاگہ دیں۔ یہ عمل2یا3 باردوہرانے سے جڑی بوٹیاں تلف ہو جائیں گی اور زمین کی نیچے کی نمی اوپر آجائے گی جو گندم کے اچھے اگا کی ضامن ہوگی۔

متعلقہ عنوان :