سیالکوٹ،محکمہ زراعت کی جانب سے آم کی گدھیڑی کے کنٹرول بارے سفارشات جاری

بدھ 19 نومبر 2025 16:50

سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 نومبر2025ء) محکمہ زراعت پنجاب نے آم کی گدھیڑی کے کنٹرول بارے سفارشات جاری کر دی ہیں۔ ترجمان محکمہ زراعت سیالکوٹ کے مطابق باغبان نومبر سے اپریل تک چھتری کے نیچے بڑے قد کی جڑی بوٹیوں کو تلف کر دیں تاکہ گدھیڑی ان کے ذریعے درخت پر نہ چڑھ سکے۔ نومبر میں زمین میں گوڈی کے ذریعے انڈوں کو تلف کیا جائے اور پر میتھرین کا پاوڈر کا دھوڑ دیا جائے۔

دسمبر میں آم کی گدھیٹری کے انڈوں سے بچے نکلنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے، اس لئے تنے کے گرد گوڈی کر کے پروفینو فاس کا سپرے کریں تاکہ بچے انڈوں سے نکلتے ہی زہر کے اثر سے مرجائیں اور اس سپرے کو ہفتے بعد دہرائیں۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید کہا کہ باغبان ماہ نومبر میں تنوں پر 30 سینٹی میٹر اونچائی پر مٹی اور توڑی بلا کر لیپ لگائیں تا کہ تنوں کی سطح ہموار ہو جائے۔

(جاری ہے)

لیپ لگانے کے بعد پھسلن والے پھندے(20 سینٹی میٹر چوڑی پلاسٹک شیٹ)لگائیں اور گدھیڑی کو درخت پر چڑھنے سے روکنے کے لئے اس شیٹ کے درمیان گریس کی ایک تہہ لگا دیں۔ اس شیٹ کے نیچے گدھیڑی اوپر چڑھنے کی کوشش میں اکٹھی ہو جاتی ہے جس کے فوری کیمیائی تدارک کے لئے پر وفینو فاس بحساب 300 ملی لٹر فی 100 لٹر پانی سپرے کریں۔ یہ عمل ہر پانچویں دن دہرایا جائے تاکہ اس کیڑے کو پودے کے اوپر جانے سے مکمل طور پر روکا جاسکے۔

متعلقہ عنوان :