سردی کے بخارسے مویشیوں کو شدید خطرہ،محکمہ لائیو سٹاک نے خبردار کر دیا

اتوار 30 نومبر 2025 14:00

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 نومبر2025ء) محکمۂ لائیوسٹاک نے پنجاب بھر میں مویشیوں خصوصاً گائے اور بھینسوں میں فوگ فیور کے خدشے پر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ یہ بیماری، جسے طبی زبان میں ایکیوٹ بائن پلمونری ایڈیما اینڈ ایمفی سیما (اے بی پی ای ای ) کہا جاتا ہے، عموماً جانوروں کو اچانک ہری اور نرم چراگاہ پر چھوڑنے سے پیدا ہوتی ہے اور تیز سانس، شدید تکلیف اور بعض کیسز میں فوری موت کا باعث بن سکتی ہے۔

محکمے کے مطابق نئی، نرم اور ہری چراگاہ میں موجود ایل۔ٹرپٹوفان جانور کے معدے میں جا کر 3-میتھائل انڈول میں تبدیل ہو جاتا ہے جو پھیپھڑوں کے ٹشوز کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اہم علامات میں بہت تیز سانسیں، منہ کھول کر سانس لینا، گلے سے سیٹی جیسی آواز، پسلیوں کا تیزی سے ہلنا، جانور کا الگ تھلگ ہو جانا، چلنے اور کھانے سے انکار شامل ہیں، جبکہ شدید صورت میں اچانک موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

(جاری ہے)

ڈپٹی ڈائریکٹر لائیوسٹاک ڈاکٹر جمشید اختر نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دودھ دینے والی گائیں، موٹے جانور اور وہ مویشی جو اچانک ہری چراگاہ پر منتقل کیے جائیں، سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے کسانوں کو ہدایت کی کہ جانوروں کو نئی چراگاہ پر آہستہ آہستہ منتقل کریں، پہلے خشک چارہ کھلائیں، بہت زیادہ نرم و ہری چراگاہ کا فوری استعمال نہ کریں اور حساس جانوروں کو خصوصی نگرانی میں رکھیں۔

ڈاکٹر جمشید اختر کے مطابق کسی بھی جانور میں فوگ فیور کی علامات ظاہر ہوتے ہی اسے فوراً آرام اور سائے میں رکھا جائے اور غیر ضروری حرکت سے بچایا جائے۔ علاج صرف ویٹرنری ڈاکٹر کی ہدایت پر کیا جائے جس میں اینٹی انفلامیٹری ادویات،سٹیرائیڈز، برونکودائی لیٹرز اور شدید کیسز میں فلوئڈ تھراپی شامل ہو سکتی ہے۔ محکمہ لائیوسٹاک نے کسانوں سے کہا ہے کہ ہنگامی صورتحال میں قریبی ویٹرنری ہسپتال یا 24/7 ہیلپ لائن 08000-9211 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ عنوان :