آم کے باغبان دسمبر سے اپریل تک چھتری کے نیچے بڑے قد کی جڑی بوٹیوں کو تلف کر دیں۔ترجمان

اتوار 14 دسمبر 2025 18:20

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 دسمبر2025ء) ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق آم کے باغبان دسمبر سے اپریل تک چھتری کے نیچے بڑے قد کی جڑی بوٹیوں کو تلف کر دیں تاکہ گدھیڑی ان کے ذریعے درخت پر نہ چڑھ سکے۔ نومبر کے آخر سے زمین میں گوڈی کے ذریعے انڈوں کو تلف کیا جائے اور پر میتھرین کا پاوڈر کا دھوڑ دیا جائے۔ دسمبر میں آم کی گدھیٹری کے انڈوں سے بچے نکلنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے اس لیے تنے کے گرد گوڈی کر کے پروفینو فاس کا سپرے کریں، تاکہ بچے انڈوں سے نکلتے ہی زہر کے اثر سے مرجائیں اور اس سپرے کو ہفتے بعد دہرائیں۔

(جاری ہے)

ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید کہا کہ باغبان ماہ نومبر میں تنوں پر 30 سینٹی میٹر اونچائی پر مٹی اور توڑی بلا کر لیپ لگائیں تا کہ تنوں کی سطح ہموار ہو جائے۔ لیپ لگانے کے بعد پھسلن والے پھندے(20 سینٹی میٹر چوڑی پلاسٹک شیٹ)لگائیں اور گدھیڑی کو درخت پر چڑھنے سے روکنے کے لئے اس شیٹ کے درمیان گریس کی ایک تہہ لگا دیں۔ اس شیٹ کے نیچے گدھیڑی اوپر چڑھنے کی کوشش میں اکٹھی ہو جاتی ہے جس کے فوری کیمیائی تدارک کے لئے پر وفینو فاس بحساب 300 ملی لٹر فی 100 لٹر پانی سپرے کریں۔ یہ عمل ہر پانچویں دن دہرایا جائے تاکہ اس کیڑے کو پودے کے اوپر جانے سے مکمل طور پر روکا جاسکے

متعلقہ عنوان :