محکمہ زراعت پنجاب کی کماد ، آلو و دیگر فصلوں کو کورے سے بچائو کےلئے سفارشات جاری

ہفتہ 20 دسمبر 2025 13:09

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 دسمبر2025ء) محکمہ زراعت پنجاب نے کماد،آلو و دیگر فصلوں کے کاشتکاروں کوکورے اور سردی سے بچائو کے لئے سفارشات جاری کردیں۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ کماد کی فصل کا کورے کے شدید حملے کی صورت میں گنے کے رس کا وزن کم ہو جاتا ہے۔کورے کی وجہ سے کماد کے بڈز(آنکھیں)بھی متاثر ہوتی ہیں اور ان کے پھوٹنے کی صلاحیت میں کمی ہوتی ہے جس سے آئندہ فصل کے بیج میں کمی ہوتی ہے لہذا کماد کے کاشتکاربیج کی تیار کی گئی فصل کو کورے سے بچانے کے لئے آبپاشی کریں۔

ترجمان نے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں آلو کی پیداوار تقریبا4.4 ملین ٹن ہوتی ہے،آلو کی فصل کا کورے اور سردی سے شدیدمتاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔شدید کورے کی صورت میں آلو کی فصل کے پتوں کے کنارے کالے ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔

(جاری ہے)

آلو کے کاشتکار محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کو غور سے سنیں ، کورے کی راتوں کو ہلکی آبپاشی کریں اور فصل کے گرد ہلکی دھونی کریں۔

کورے سے ٹماٹر،مرچ اور بینگن کی نرسریاں بھی متاثر ہوسکتی ہیں، علاوہ ازیں ٹنل میں کاشتہ کھیرا اور شملہ مرچ کی فصل کی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے۔ اگر کہر کے ساتھ دھند بھی مسلسل پڑتی رہے تو کنوں ، لیموں اور امرود جیسی فصلوں میں پھل کا کیرا شروع ہوجاتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ سردی سے متاثر ہونے والی فصلوں اور پھلوں میں آلو، امرود، پیاز کی نرسری، جوی، چنے، رایا، سٹرابیری، سونف، کنو، کینولا، گنا، لیچی، مٹر اور مسور وغیرہ شامل ہیں۔

آلو، امرود، گنا اور کنو زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ،یہ فصلیں چند دن کا کہر برداشت کرسکتی ہیں لیکن اگر مسلسل ہفتہ بھر یا زیادہ دنوں تک شدید سردی یا کہر پڑتی رہے تو ان فصلوں و پھلوں کی پیداوار بھی بری طرح متاثر ہوجاتی ہے اور ان میں سے بعض فصلوں کے پتے جھلس جاتے ہیں۔ آلو اور گنا جبکہ بعض فصلوں کے پتے تو نہیں جھلستے لیکن ان کی نشوونما رک اور زردانے مرنے کی وجہ سے پھل پیدا کرنے کی صلاحیت بھی کم ہوجاتی ہے، ان میں مٹر، کلونجی اور سونف جیسی فصلیں شامل ہیں۔

زیادہ کورا ایسی گندم جس کو ابھی پہلی آبپاشی بھی نہ کی گئی ہو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ترجمان کاکہنا ہے کہ صوبہ پنجاب میں دسمبر کے آخر سے جنوری کے آخر تک کہر کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ پودوں کو زیادہ سردی اور کورے سے بچانے کے کاشتکار محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کریں۔ نئے، چھوٹے باغات اور نرسریوں خصوصا آم کے پودوں کو کورے کی وجہ سے جھلسنے کا خطرہ ہوتا ہے، اس لئے پودوں کو فوری طور پر ڈھانپ دیں۔

ٹہنیوں اور سرکنڈے سے بھی پودوں کو جزوی طور پر ڈھانپا جا سکتا ہے۔ مشاہدہ میں آیا ہے کہ بعض اوقات کاشتکار کھاد والی پلاسٹک کی بوریوں سے پودوں کو ڈھانپ دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں بوریوں کا منہ نیچے سے کھلا رکھیں اور دن کے وقت پودوں سے بوریا اتار دیں جبکہ رات کو پودوں کو دوبارہ ڈھانپ دیں۔ فصلیں ، باغات اور سبزیوں کی ہلکی آبپاشی کریں اور باغات میں پودوں کے تنوں کو بورڈ و پیسٹ لگائیں۔

چھوٹی نرسریوں اور سبزیوں کو پلاسٹک شیٹ سے ڈھانپ دیں اور فصل کے شمال کی طرف سرکنڈہ لگا دیں تاکہ فصل شمال کی طرف سے آنے والی ٹھنڈی ہوا سے محفوظ رہے۔ ضرورت پڑنے پر چھوٹی نرسریوں، باغات، سبزیات کو کورے اور زیادہ سردی سے محفوظ رکھنے کے لئے ان کے نزدیک بعد از سہ پہر دھواں کریں۔ پلاسٹک ٹنل میں کاشتہ سبزیاں بھی زیادہ سردی اور کورے سے متاثر ہو سکتی ہیں، اس لئے کورے والی راتوں میں ٹنل کا منہ اندر سے بند کریں تاکہ اندر کا درجہ حرارت سبزیوں کی نشوونما کے لئے موزوں رہے اور دن میں 10 بجے ٹنل کا منہ کھولیں تاکہ اندر کا درجہ حرارت بڑھنے نہ پائے اور شام کو 4 بجے ٹنل کا منہ بند کر دیں تاکہ فصل کورے سے متاثر نہ ہو۔

ترجمان نے مزید کہا کہ صحت مند زمینوں میں خوراکی اجزا کی دستیابی بہتر ہونے کی وجہ سے فصلیں صحت مند ہوتی ہیں۔ اگر کھیلیاں شرقا غربا بنائی جائیں اور چوکے صرف جنوبی یعنی زیادہ دھوپ والی جانب لگائے جائیں تواس طرح نہ صرف اگائو بہتر ہوتا ہے بلکہ کورا کی وجہ سے نقصان بھی بہت کم ہوتا ہے۔ اگر آلو کے کہر سے متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتو اس پر پوٹاشیم کی حامل این پی کے کے مختلف گریڈ ایک کلو گرام فی ایکڑ کے حساب سے 100 لیٹر پانی میں ملاکر سپرے کیے جاسکتے ہیں۔

یہ مرکبات زہروں کے ساتھ ملا کر 2 یا 3 مرتبہ اگائو مکمل ہونے کے بعد پہلے 60 دنوں کے دوران سپرے کیے جاسکتے ہیں ،اس مقصد کے لئے سولو پوٹاش 45:15:05 یا این پی کے 44:02:13 کے تناسب سے سپرے کی جاسکتی ہیں۔ سردیوں میں شمال سے آنے والی یخ بستہ ہوا باغات اور سبزیوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے لہذا باغات کو شدید سردی سے بچانے کے لئے شمالی جانب ہوا توڑ باڑیں لگائی جائیں، باغ لگانے سے دو سال قبل ہوا توڑ باڑ لگانے کی سفارش کی جاتی ہے۔

کنو اور ترشاوہ باغات کے شمال میں 20 فٹ کے فاصلہ پر شیشم یا 10 فٹ کے فاصلہ پر پاپولر جبکہ آم کے باغات کے لئے بانس کے پودے 15X15 فٹ کے فاصلہ پر لگائے جاسکتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ کورے کے مضر اثرات سے فصلات کو بچا کر کاشتکار اپنی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں۔