سیالکوٹ،محکمہ زراعت کی آم کے باغات کو کورے سے بچانے کےلئے اہم سفارشات جاری

ہفتہ 27 دسمبر 2025 12:30

سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 دسمبر2025ء) محکمہ زراعت پنجاب نے آم کے باغات کو کورے کے ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنے کےلئے باغبانوں کے لیے سفارشات جاری کر دی ہیں۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ رانا سلیم شاد نے اے پی پی کو بتایا کہ آم کی فصل کو کورے کے مضر اثرات سے بچانے کےلئے باغات میں پانی کا ہلکا چھڑکاؤ کیا جائے، جو زمین کی نمی کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، تاہم اگر زمین میں پہلے سے وتر موجود ہو تو آبپاشی کی ضرورت نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ آم کے چھوٹے پودوں کو شیشم کے چھاپوں یا پلاسٹک شیٹ سے ڈھانپ کر بھی کورے سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔رانا سلیم شاد کے مطابق آم کے درختوں کے نیچے دھواں کرنے سے بھی کورے کے اثرات میں کمی آتی ہے، جبکہ باغات میں درختوں کی چھتری کے نیچے 80 سے 100 کلوگرام نامیاتی مواد، جیسے گلا سڑا گوبر، بکھیرنا مفید ثابت ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ آم کے درختوں پر موسم سرما میں قبل از وقت بور نکلنے سے روکنے کیلئے آبپاشی روکنا ضروری ہے، اگر پھل توڑنے کے فوراً بعد فاسفورس اور پوٹاش کی کھاد استعمال نہیں کی گئی تو اس ماہ گلی سڑی گوبر کے ساتھ ملا کر کھاد ڈال لیں۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت نے کہا کہ پودوں کو ٹھنڈی ہواؤں سے بچانے کیلئے چاروں اطراف حفاظتی شیلڈ لگانا ضروری ہے تاکہ درختوں کی جڑیں محفوظ رہیں۔ کورے کے نقصان سے بچاؤ کیلئے درختوں کے تنوں پر بورڈیکس پیسٹ (چونا: نیلا تھوتھا: پانی 1:1:10) یا محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی عملے کے مشورے سے مناسب جراثیم کش زہر کا پیسٹ 1:20 کے تناسب سے لگایا جائے۔انہوں نے باغبانوں کو ہدایت کی کہ آم کے تیلے کے تدارک کیلئے درختوں کی موٹی ٹہنیوں پر مناسب کیڑے مار زہر کا سپرے کیا جائے تاکہ چھال میں چھپے تیلے کا خاتمہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ آم کی گدھیڑی کو پودوں پر چڑھنے سے روکنے کیلئے تنوں پر پھسلن والے پھندے (پلاسٹک شیٹ) لگانے کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔

متعلقہ عنوان :