گندم کی بہتر پیداوارکے لئے زمین کی تیاری، اچھے بیج وقسم کا انتخاب اور بروقت کاشت کے ساتھ ساتھ جڑی بوٹیوں کی تلفی اہم ہے، محکمہ زراعت سمبڑیال

منگل 30 دسمبر 2025 13:14

سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 دسمبر2025ء) اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ گندم کی بہتر پیداوار میں زمین کی تیاری، اچھے بیج وقسم کا انتخاب، متوازن کھاد اور بروقت کاشت کے ساتھ ساتھ جڑی بوٹیوں کی تلفی اہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی کے بغیر گندم کی فی ایکٹر زیادہ پیداوار کا حصول ناممکن ہے، جڑی بوٹیاں فصل کے ساتھ خوراک، پانی اور ہوا میں حصہ بن کے گندم کی پیداوار میں نمایاں کمی کا باعث بنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جڑی بوٹیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں 42فیصد تک کمی ہو سکتی ہے گندم میں جڑی بوٹیوں کے بیجوں کی ملاوٹ کے باعث پیداوار کی کوالٹی خراب ہونے سے ریٹ کم ملتا ہے، گندم کی فصل میں عام طور پر دو قسم کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں، پہلی قسم چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی ہے جن میں کرنڈ، باتھو، لیہہ، ریواڑی،سینجی، مینا، گاجر بوٹی، شاہترہ، بلی بوٹی،گیلیم مڑی اور جنگلی پالک قابل ذکر ہیں ،دوسری قسم میں گھاس نمانو کیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں شامل ہیں جن میں جنگلی جئی، دمبی سٹی اور پومری گھاس قابل ذکر ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے بہترین وقت وہ ہے جب جڑی بوٹیوں نے 2 سے 3 پتے نکالے ہوں۔ گندم کی فصل سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے پہلے پانی کے بعد وتر آنے پر دو بار ہیرو چلائی جائے اور اگر کاشتکاروں کے پاس افرادی قوت موجود نہ ہو تو جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی ماہرین کے مشورہ سے جڑی بوٹی مار زہروں سے بھی کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ عنوان :