فصلوں کی باقیات جلانا قابلِ سزا جرم ہے ، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی،ڈی جی (سیپا) وقارحسین پھلپوٹو

جمعرات 1 جنوری 2026 22:15

لاڑکانہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 جنوری2026ء) سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) نے صوبے بھر میں فصل کی کٹائی کے بعد باقیات کو جلانے پر مکمل پابندی سے متعلق ہدایت جاری کردی ہے۔ ڈی جی سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) وقار حسین پھلپوٹو نے صوبے بھر کے تمام زمینداروں اور کاشتکاروں کو سختی سے آگاہ کیا گیا ہے کہ گنے سمیت کسی بھی فصل کی کٹائی کے بعد باقیات (جن میں کھوری، اسٹبل وغیرہ شامل ہیں) کو جلانا قانوناً مکمل طور پر ممنوع ہے۔

عوامی اعلانات کا بھی آغاز کردیا ہے۔ ڈی جی سیپا نے مزید کہا کہ فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے سے شدید فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے جو انسانی صحت، ماحولیاتی توازن، زرعی زمین اور مفید کیڑوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے جبکہ اس عمل سے زمین کی زرخیزی بھی متاثر ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2014 کے تحت فصلوں کی باقیات جلانا قابلِ سزا جرم ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف صوبہ بھر میں بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سیپا نے زمینداروں اور کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے ماحول دوست متبادل طریقے اپنائیں جن میں جدید زرعی مشینری کے ذریعے باقیات کو کاٹ کر زمین میں شامل کرنا، مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال کرنا، ایندھن کے طور پر ذخیرہ کرنا یا سرد موسم میں فصلوں اور باغات کو ٹھنڈ سے بچانے کے لیے استعمال کرنا شامل ہے۔ ڈی جی سیپا وقار پھلپوٹو نے اپیل کی ہے کہ ان اقدامات پر عمل کر کے کاشتکار صاف فضا، آلودگی سے پاک ماحول اور صحت مند سندھ کے قیام میں اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔

متعلقہ عنوان :