جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی سے گندم کی فی ایکڑ اچھی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے،محکمہ زراعت

ہفتہ 3 جنوری 2026 14:19

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جنوری2026ء) جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی سے گندم کی فی ایکڑ اچھی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق جڑی بوٹیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں 42فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔گندم کی فصل میں عام طور پر دو قسم کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں،پہلی قسم چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی ہے جن میں کرنڈ،باتھو، لیہہ، لیبلی، ریواڑی،سینجی، مینا،گاجر بوٹی، شاہترہ،بلی بوٹی، گیلیم مڑی اور جنگلی پالک قابل ذکر ہیں جبکہ دوسری قسم میں گھاس نمانو کیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں شامل ہیں جن میں جنگلی جئی، دمبی سٹی اور پومڑی گھاس قابل ذکر ہیں۔

ترجمان کے مطابق جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے بہترین وقت وہ ہے جب جڑی بوٹیوں نے 2سے 3پتے نکالے ہوں،گندم کی فصل سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے پہلے پانی کے بعد وتر آنے پر دوہری بار ہیرو چلائی جائے اور اگر کاشتکاروں کے پاس افرادی قوت موجود نہ ہو تو جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ جڑی بوٹی مار زہروں سے بھی کی جاسکتی ہے،چوڑے پتوں اور نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں کے لیے مخصوص زہریں محکمہ زراعت توسیع کے مقامی عملہ کے مشورہ سے استعمال کریں۔

(جاری ہے)

ترجمان کے مطابق چوڑے پتوں جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے عام طور پر گندم کی پہلی آبپاشی کے بعد وتر حالت میں سپرے کیا جاتا ہے اور نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے دوسری آبپاشی کے بعد سپرے کیا جاتا ہے،سپرے کے لیے مخصوصی نوزل فلیٹ فین یا ٹی جیٹ استعمال کریں اور پانی کی فی ایکڑ مقدار 100تا 120 لیٹر رکھیں۔ گندم کی فصل سے جڑی بوٹیوں کو بروقت تلف کر کے ہم گندم کی فی ایکڑ اچھی پیداوار حاصل کر سکتے ہیں جس سے بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضرورت کو مستقل بنیادوں پر یقینی بنا کر فوڈ سکیورٹی کا حصول ممکن ہے۔

متعلقہ عنوان :