محکمہ زراعت نے میدانی علاقوں میں کدو کی کاشت کیلئے ضروری سفارشات جاری کر دیں

جمعرات 8 جنوری 2026 18:47

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 جنوری2026ء) میدانی علاقوں کے کاشتکاروں کو گھیا کدو کی فیصل آباد گول اور لوکی اقسام کی کاشت کیلئے اچھی روئیدگی والا دو سے اڑھائی کلوگرام بیج فی ایکڑاستعمال کرنے اور پہلی فصل کی کاشت فروری میں شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ بروقت کاشتہ فصل کے باعث اچھی پیداوار حاصل کی جاسکے۔ ترجمان نظامت زرعی اطلاعات ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد اسحاق لاشاری نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کاشتکار زمین کی تیاری کے بعد کھیت میں 3 سے4میٹر کے فاصلے پر ڈوری سے نشان لگائیں اور ان نشانوں کے دونوں اطراف4 بوری سنگل سپر فاسفیٹ،1 بوری امونیم سلفیٹ اور1 بوری پوٹاش یا ڈیڑھ بوری ڈی اے پی اور1 بوری پوٹاش فی ایکڑ ملا کر ڈال دیں، بعد ازاں نشانوں سے مٹی اٹھا کر پٹڑیاں بنائیں لیکن اس بات کا خاص طور پر خیال کریں کہ پٹڑیوں کے درمیان والی نالی 40 سے50 سینٹی میٹر چوڑی اور 20 سے 25 سینٹی میٹر گہری ہو اس طرح زمین کاشت کیلئے تیار ہو جاتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ پٹڑی کے دونوں کناروں پر40سے 50سینٹی میٹر کے فاصلہ پر2،2 بیج مناسب گہرائی پر بذریعہ چوکا لگائے جائیں اور اگر کاشت سے 8سے10 گھنٹے قبل بیج کو پانی میں بھگو دیں تو اسکا اگاؤ بہت اچھا ہو جاتا ہے۔انہوں نے بتایاکہ میدانی علاقوں میں عام طور پرگھیا کدو کی تین فصلیں کاشت کی جاتی ہیں جن میں پہلی فصل فروری ومارچ، دوسری جولا ئی و اگست جبکہ تیسری فصل اکتوبر کے آ خریا نومبر کے شروع میں کاشت کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایاکہ گھیا کدو کی دو اقسام کاشت کی جاتی ہیں جن میں ایک قسم گول اور دوسری لمبی ہوتی ہے جسے لوکی بھی کہتے ہیں جو زیادہ ترپہاڑی علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ترقی دادہ اقسام میں فیصل آباد گول زیادہ پیداوار دینے والی قسم ہے۔انہوں نے مزید بتایاکہ ذرخیز میرا زمین جس میں نامیاتی مادہ وافر مقدار میں موجود ہو اور پانی دیر تک جذب رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو موزوں ہے تاہم تھور اور سیم زدہ زمینو ں میں اسے کاشت نہیں کرنا چا ہئے۔

انہوں نے بتایا کہ بوائی سے ایک ماہ پہلے 10سے15ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد ڈال کر زمین میں اچھی طرح ملا دیں اور بعد میں کچی راؤنی کے بعد وتر آنے پر زمین میں ہل اور سہاگہ چلائیں اس طرح کھیت میں موجود جڑی بوٹیوں کے بیج اگ آئیں گے جو کاشت کے وقت زمین کی تیاری کے دوران آسانی سے تلف کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار بوائی کے وقت تین سے چاربار ہل اور سہاگہ چلائیں تاکہ زمین نرم اور بھربھری ہو جائے نیز زمین کا ہموار ہونا بھی بہت ضروری ہے۔

متعلقہ عنوان :